Registrazione
Registrazione
Registrazione
Seleziona la lingua

Tafsir: Taha 20:94

20:94
قال يا ابن ام لا تاخذ بلحيتي ولا براسي اني خشيت ان تقول فرقت بين بني اسراييل ولم ترقب قولي ٩٤
قَالَ يَبْنَؤُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِى وَلَا بِرَأْسِىٓ ۖ إِنِّى خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِى ٩٤
قَالَ
يَبۡنَؤُمَّ
لَا
تَأۡخُذۡ
بِلِحۡيَتِي
وَلَا
بِرَأۡسِيٓۖ
إِنِّي
خَشِيتُ
أَن
تَقُولَ
فَرَّقۡتَ
بَيۡنَ
بَنِيٓ
إِسۡرَٰٓءِيلَ
وَلَمۡ
تَرۡقُبۡ
قَوۡلِي
٩٤
Rispose: «O figlio di mia madre, non prendermi per la barba o per i capelli. Temevo che avresti detto: “Hai creato una divisione tra i Figli di Israele e non hai obbedito alle mie parole”».
Tafsir
Strati
Lezioni
Riflessi
Risposte
Qiraat
Hadith

نظر آتا ہے کہ حضرت ہارون ٹھنڈے مزاج کے آدمی تھے اور حضرت موسیٰ کے مقابلے میں اپنے جذبات پر قابو رکھتے تھے۔ وہ حضرت موسیٰ کے شعور میں ایک حساس یونٹ تلاش کرتے ہیں۔ برادری ایک حساس رشتہ ہے۔ اپنے خیال کے مطابق وہ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ اگر میں آپ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا تو بنی اسرائیل کے اند رفرقہ بندی ہوجاتی۔ ایک گروہ بچھڑے کی حمایت میں اٹھ جاتا دوسرا میرے ساتھ ہوجاتا حالانکہ آپ کا حکم یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی حفاظت اور نگرانی رکھ اور ان میں کوئی نئی بات پیدا ہونے نہ دو ، تو ان کو انتشار سے بچانا بھی اطاعت امر ہے۔

حضرت موسیٰ کے غضب اور غصے کا رخ سامری کی طرف مڑ جاتا ہے جس نے اس فتنے کو ایجاد کیا تھا۔ اس سے پہلے حضرت موسیٰ اس کی طرف اس لئے متوجہ نہیں ہوتے کہ لوگوں کا بھی یہ فریضہ تھا کہ وہ ہر کس و ناکس کی اطاعت نہ کریں۔ پھر حضرت ہارون کی ذمہ داری آتی ہے کیونکہ وہ بھی ذمہ دار تھے کہ بچھڑے کی وپجا کرنے والوں کی راہ روکتے۔ رہے سامری تو ان کی ذمہ داری سب سے آخر میں آتی ہے کیونکہ اس نے ان کو زبردستی بچھڑے کی عبادت کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا۔ نہ اس نے ان کی عقل پر تالالگا دیا تھا۔ اس نے ان کو گمراہ کیا اور یہ گمراہ ہونے کے لئے تیار ہوگئے۔ ان کے بس میں یہ بات تھی کہ وہ اپنے پہلے بنی کی اطاعت کرتے ، پھر ان کا یہ فریضہ تھا کہ دوسرے نبی کی نصیحت پر عمل کرتے۔ لہٰذا اصل ذمہ داری پہلے قوم کی ہے ، پھر ان کے نگراں کی اور اس کے بعد اس شخص کی ہے جس نے یہ فتنہ پیدا کیا۔ چناچہ حضرت موسیٰ سب سے آخر میں اس کی طرف متوجہ ہوئے۔