Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Yusuf 12:33

12:33
قال رب السجن احب الي مما يدعونني اليه والا تصرف عني كيدهن اصب اليهن واكن من الجاهلين ٣٣
قَالَ رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلْجَـٰهِلِينَ ٣٣
قَالَ
رَبِّ
السِّجْنُ
اَحَبُّ
اِلَیَّ
مِمَّا
یَدْعُوْنَنِیْۤ
اِلَیْهِ ۚ
وَاِلَّا
تَصْرِفْ
عَنِّیْ
كَیْدَهُنَّ
اَصْبُ
اِلَیْهِنَّ
وَاَكُنْ
مِّنَ
الْجٰهِلِیْنَ
۟
Yusuf berkata, "Wahai Tuhanku! Penjara lebih aku sukai daripada memenuhi ajakan mereka. Jika aku tidak Engkau hindarkan dari tipu daya mereka, niscaya aku akan cenderung untuk (memenuhi keinginan mereka) dan tentu aku termasuk orang yang bodoh."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 12:30 hingga 12:34

اس قصہ میں ایک طرف مصر کے اونچے طبقہ کی خواتین تھیں اور دوسری طرف حضرت یوسف۔ خواتین آپ کو بس ایک خوب صورت جوان کی صورت میں دیکھ رہی تھیں۔ اسی طرح حضرت یوسف ان خواتین کو تسکین نفس کے سامان کے روپ میں دیکھ سکتے تھے۔ مگر انتہائی ہیجان خیز حالات میں بھی آپ نے ایسا نہیں کیا۔

خواتین کا حال یہ تھا کہ وہ سب کی سب آپ کی پُرکشش شخصیت کی طرف متوجہ تھیں۔ حتی کہ شدّت محویت میں انھوں نے چھری سے پھل کاٹتے ہوئے اپنے ہاتھ زخمی کرليے۔ مگر حضرت یوسف اپنی تمام تر توجہ خدا کی طرف لگائے ہوئے تھے۔ خدا کی عظمت وکبریائی کااحساس آپ کے اوپر اتنا غالب آچکا تھا کہ کوئی دوسری چیز آپ کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی— کتنا فرق ہے ایک انسان اور دوسرے انسان میں۔