Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: An-Nisa' 4:29

4:29
يا ايها الذين امنوا لا تاكلوا اموالكم بينكم بالباطل الا ان تكون تجارة عن تراض منكم ولا تقتلوا انفسكم ان الله كان بكم رحيما ٢٩
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَأْكُلُوٓا۟ أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَـٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَـٰرَةً عَن تَرَاضٍۢ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًۭا ٢٩
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
لَا
تَاْكُلُوْۤا
اَمْوَالَكُمْ
بَیْنَكُمْ
بِالْبَاطِلِ
اِلَّاۤ
اَنْ
تَكُوْنَ
تِجَارَةً
عَنْ
تَرَاضٍ
مِّنْكُمْ ۫
وَلَا
تَقْتُلُوْۤا
اَنْفُسَكُمْ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
كَانَ
بِكُمْ
رَحِیْمًا
۟
Wahai orang-orang yang beriman! Janganlah kamu saling memakan harta sesamamu dengan jalan yang batil (tidak benar), kecuali dalam perdagangan yang berlaku atas dasar suka sama suka di antara kamu. Dan janganlah kamu membunuh dirimu. Sungguh, Allah Maha Penyayang kepadamu.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

آیت 29 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَاْکُلُوْآ اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ قف تجارت اور لین دین کی بنیاد جب حقیقی باہمی رضامندی پر ہو تو اس سے حاصل ہونے والا منافع جائز اور حلال ہے۔ فرض کیجیے کہ آپ کی جوتوں کی دکان ہے۔ آپ نے گاہک کو ایک جوتا دکھایا اور اس کے دام دو سو روپے بتائے۔ اس نے جوتا پسند کیا اور دو سو روپے میں خرید لیا۔ یہ باہمی رضامندی سے سودا ہے جو سیدھے سادھے اور صحیح طریقے پر ہوگیا۔ ظاہر بات ہے کہ اس میں سے کچھ نہ کچھ نفع تو آپ نے کمایا ہے۔ آپ نے اس کے لیے محنت کی ہے ‘ کہیں سے خرید کر لائے ہیں ‘ اسے سٹور میں محفوظ کیا ہے ‘ دکان کا کرایہ دیا ہے ‘ لہٰذا یہ منافع آپ کا حق ہے اور گاہک کو اس میں تأمل نہیں ہوگا۔ لیکن اگر آپ نے یہی جوتا جھوٹ بول کر یا جھوٹی قسم کھا کر فروخت کیا کہ میں نے تو خود اتنے کا لیا ہے تو اس طرح آپ نے اپنی ساری محنت بھی ضائع کی اور آپ نے حرام کما لیا۔ اسی طرح معاملت اور لین دین کے وہ تمام طریقے جن کی بنیاد جھوٹ اور دھوکہ دہی پر ہونا جائز اور حرام ہیں۔ وَلاَ تَقْتُلُوْآ اَنْفُسَکُمْ ط ۔یعنی ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔ تمدن کی بنیاد دو چیزوں پر ہے ‘ احترام جان اور احترام مال۔ میرے لیے آپ کا مال اور آپ کی جان محترم ہے ‘ میں اسے کوئی گزند نہ پہنچاؤں ‘ اور آپ کے لیے میرا مال اور میری جان محترم ہے ‘ اسے آپ گزند نہ پہنچائیں۔ اگر ہمارے مابین یہ شریفانہ معاہدہ Gentlemans agreement قائم رہے تب تو ہم ایک معاشرے اور ایک ملک میں رہ سکتے ہیں ‘ جہاں اطمینان ‘ امن و سکون اور چین ہوگا۔ اور جہاں یہ دونوں احترام ختم ہوگئے ‘ جان کا اور مال کا ‘ تو ظاہر بات ہے کہ پھر وہاں امن و سکون ‘ چین اور اطمینان کہاں سے آئے گا ؟ اس آیت میں باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال کھانے اور قتل نفس دونوں کو حرام قرار دے کر ان دونوں حرمتوں کو ایک ساتھ جمع کردیا گیا ہے۔