Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Taha 20:112

20:112
ومن يعمل من الصالحات وهو مومن فلا يخاف ظلما ولا هضما ١١٢
وَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَلَا يَخَافُ ظُلْمًۭا وَلَا هَضْمًۭا ١١٢
وَمَنْ
یَّعْمَلْ
مِنَ
الصّٰلِحٰتِ
وَهُوَ
مُؤْمِنٌ
فَلَا
یَخٰفُ
ظُلْمًا
وَّلَا
هَضْمًا
۟
Dan barang siapa mengerjakan kebajikan sedang dia (dalam keadaan) beriman, maka dia tidak khawatir akan perlakuan zalim (terhadapnya) dan tidak (pula khawatir) akan pengurangan haknya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 20:111 hingga 20:112

آیت 111 وَعَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ ط ”اور سب کے چہرے جھکے ہوئے ہوں گے اس ہستی کے حضور جو الحی القیوم ہے۔“قرآن مجید کا یہ تیسرا مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے یہ دو نام الحیّ اور القیوم ایک ساتھ آئے ہیں۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ ‘ آیت 255 آیت الکرسی اور سورة آل عمران ‘ آیت 2 میں یہ دونوں نام اکٹھے آ چکے ہیں۔ الحی القیوم کے بارے میں عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ”اسم اللہ الاعظم“ یعنی اللہ کا عظیم ترین نام اسم اعظم ہے جس کے حوالے سے جو دعا کی جائے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا ”یعنی کسی طرح کے شرک کا مرتکب ہوا۔