Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
20:53
الذي جعل لكم الارض مهدا وسلك لكم فيها سبلا وانزل من السماء ماء فاخرجنا به ازواجا من نبات شتى ٥٣
ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ مَهْدًۭا وَسَلَكَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًۭا وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَخْرَجْنَا بِهِۦٓ أَزْوَٰجًۭا مِّن نَّبَاتٍۢ شَتَّىٰ ٥٣
الَّذِیْ
جَعَلَ
لَكُمُ
الْاَرْضَ
مَهْدًا
وَّسَلَكَ
لَكُمْ
فِیْهَا
سُبُلًا
وَّاَنْزَلَ
مِنَ
السَّمَآءِ
مَآءً ؕ
فَاَخْرَجْنَا
بِهٖۤ
اَزْوَاجًا
مِّنْ
نَّبَاتٍ
شَتّٰی
۟
(Tuhan) yang telah menjadikan bumi sebagai hamparan bagimu, dan menjadikan jalan-jalan di atasnya bagimu, dan yang menurunkan air (hujan) dari langit." Kemudian Kami tumbuhkan dengannya (air hujan itu) berjenis-jenis aneka macam tumbuh-tumbuhan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 20:53 hingga 20:56
اللہ رب العزت کا تعارف ٭٭

موسیٰ علیہ السلام فرعون کے سوال کے جواب میں اوصاف الٰہی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسی اللہ نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش بنایا ہے۔ «مَهْدًا» کی دوسری قرأت «مھَادًا» ہے۔ زمین کو اللہ تعالیٰ نے بطور فرش کے بنا دیا ہے کہ تم اس پر قرار کئے ہوئے ہو، اسی پر سوتے بیٹھتے رہتے سہتے ہو۔ «وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ» [21-الأنبياء:31] ‏ ” اس نے زمین میں تمہارے چلنے پھرنے اور سفر کرنے کے لیے راہیں بنا دی ہیں تاکہ تم راستہ نہ بھولو۔ “

اور منزل مقصود تک بہ آسانی پہنچ سکو۔ وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس کی وجہ سے زمین سے ہر قسم کی پیداوار اگاتا ہے۔ کھیتیاں، باغات، میوے، قسم قسم کے ذائقے دار کہ تم خود کھا لو اور اپنے جانوروں کو چارہ بھی دو۔ تمہارا کھانا اور میوے، تمہارے جانوروں کا چارا، خشک اور تر سب اسی سے اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔ جن کی عقلیں صحیح سالم ہیں، ان کے لیے تو قدرت کی یہ تمام نشانیاں دلیل ہیں اللہ کی الوہیت، اس کی وحدانیت اور اس کے وجود پر۔ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا فرمایا ہے، تمہاری ابتداء اسی سے ہے۔ اس لیے کہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام کی پیدائش اسی سے ہوئی ہے۔ اسی میں تمہیں پھر لوٹنا ہے، مر کر اسی میں دفن ہونا ہے، اسی سے پھر قیامت کے دن کھڑے کئے جاؤ گے۔ «يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا» ‏ [17-الإسراء:52] ‏ ” ہماری پکار پر ہماری تعریفیں کرتے ہوئے اٹھو گے اور یقین کر لو گے کہ تم بہت ہی تھوڑی دیر رہے۔ “

جیسے اور آیت میں ہے کہ «قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ» ‏ [7-الأعراف:25] ‏ ” اسی زمین پر تمہاری زندگی گزرے گی، مر کر بھی اسی میں جاؤ گے، پھر اسی میں سے نکالے جاؤ گے۔“

سنن کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کے دفن کے بعد اس کی قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے پہلی بار فرمایا «‏مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ» ‏ دوسری لپ ڈالتے ہوئے فرمایا «‏وَفِيهَا نُعِيدكُمْ» تیسری بار فرمایا «‏وَمِنْهَا نُخْرِجكُمْ تَارَة أُخْرَى» ۔

الغرض فرعون کے سامنے دلیلیں آ چکیں، اس نے معجزے اور نشان دیکھ لیے لیکن سب کا انکار اور تکذیب کرتا رہا، کفر، سرکشی، ضد اور تکبر سے باز نہ آیا۔ جیسے فرمان ہے «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» [27-النمل:14] ‏ ” یعنی باوجود یہ کہ ان کے دلوں میں یقین ہو چکا تھا لیکن تاہم ازراہ ظلم و زیادتی انکار سے باز نہ آئے۔ “

صفحہ نمبر5268