Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
27:93
وقل الحمد لله سيريكم اياته فتعرفونها وما ربك بغافل عما تعملون ٩٣
وَقُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمْ ءَايَـٰتِهِۦ فَتَعْرِفُونَهَا ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَـٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ٩٣
وَقُلِ
الْحَمْدُ
لِلّٰهِ
سَیُرِیْكُمْ
اٰیٰتِهٖ
فَتَعْرِفُوْنَهَا ؕ
وَمَا
رَبُّكَ
بِغَافِلٍ
عَمَّا
تَعْمَلُوْنَ
۟۠
Dan katakanlah (Muhammad), "Segala puji bagi Allah, Dia akan memperlihatkan kepadamu tanda-tanda (kebesaran)-Nya, maka kamu akan mengetahuinya. Dan Tuhanmu tidak lengah terhadap apa yang kamu kerjakan."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 27:92 hingga 28:2

آیت 92 وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ ج ”مجھے تیسرا حکم یہ ملا ہے کہ میں قرآن پڑھوں ‘ پڑھ کر لوگوں کو سناتا رہوں اور اس کی تبلیغ کرتا رہوں۔ سورة المائدۃ کی آیت 67 میں بھی آپ ﷺ کو ایسا ہی حکم دیا گیا ہے : یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَط وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسٰلَتَہٗ ط کہ اے نبی ﷺ ! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے آپ وہ لوگوں تک پہنچادیجیے اور اگر بالفرض آپ نے ایسانہ کیا تو یہ گویا رسالت کے فرائض میں کوتاہی شمار ہوگی۔فَمَنِ اہْتَدٰی فَاِنَّمَا یَہْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ ج ”اس ہدایت کے بدلے میں اگر وہ آخرت میں کامیاب قرار پاتا ہے اور اسے فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌلا وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ الواقعۃ سے نوازا جاتا ہے تو اس میں اس کا اپنا ہی بھلا ہے۔وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ”جیسے کسی خطبہ کے آخر میں یہ الفاظ کہے جاتے ہیں : وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ بالکل اسی انداز میں اب اس سورت کا اختتام ہو رہا ہے :