Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: An-Naml Ayah 87

27:87
ويوم ينفخ في الصور ففزع من في السماوات ومن في الارض الا من شاء الله وكل اتوه داخرين ٨٧
وَيَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُ ۚ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَٰخِرِينَ ٨٧
وَیَوْمَ
یُنْفَخُ
فِی
الصُّوْرِ
فَفَزِعَ
مَنْ
فِی
السَّمٰوٰتِ
وَمَنْ
فِی
الْاَرْضِ
اِلَّا
مَنْ
شَآءَ
اللّٰهُ ؕ
وَكُلٌّ
اَتَوْهُ
دٰخِرِیْنَ
۟
Dan (ingatlah) pada hari (ketika) sangkakala ditiup, maka terkejutlah apa yang ada di langit dan apa yang ada di bumi, kecuali siapa yang dikehendaki Allah. Dan semua mereka datang menghadap-Nya dengan merendahkan diri.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 27:87 hingga 27:90

موجودہ دنیا میں انکار کا اصل سبب انسان کی بے خوفی ہے۔ یہ دراصل بے خوفی کی نفسیات ہے جس کی وجہ سے آدمی حق کو نظر انداز کرتاہے اور اس کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ مگر جب امتحان کی مدت ختم ہوگی اور اس کی علامت کے طورپر صور پھونک دیا جائے گا تو اچانک لو گ محسوس کریں گے کہ ان کی بے خوفی محض بے خبری کی بناپر تھی۔ اس دن تمام بڑائیاں ریت کی دیوار کی طرح ڈھ جائیں گی۔ یہ ایسا سخت لمحہ ہوگا کہ انسان تو درکنار پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ اس وقت سارا عجز ایک طرف ہوجائے گا اور ساری قدرت دوسری طرف۔

اس دن وہ تمام چیزیں بالکل غیر اہم ہوجائیں گی جن کو لوگ دنیا میں اہم سمجھے ہوئے تھے۔ اس دن سارا وزن صرف عمل صالح میں ہوگا۔ اس دن کھونے والے پائیں گے اور پانے والے ابدی طورپر محروم ہو کر رہ جائیں گے۔