Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
27:76
ان هاذا القران يقص على بني اسراييل اكثر الذي هم فيه يختلفون ٧٦
إِنَّ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ يَقُصُّ عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَكْثَرَ ٱلَّذِى هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ٧٦
اِنَّ
هٰذَا
الْقُرْاٰنَ
یَقُصُّ
عَلٰی
بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ
اَكْثَرَ
الَّذِیْ
هُمْ
فِیْهِ
یَخْتَلِفُوْنَ
۟
Sungguh, Al-Qur`an ini menjelaskan kepada Bani Israil sebagian besar dari (perkara) yang mereka perselisihkan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 27:76 hingga 27:78

آیت 76 اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اَکْثَرَ الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ”تورات کا نزول قرآن سے دو ہزار سال پہلے ہوا تھا۔ اصل کتاب مدتوں پہلے گم ہوچکی تھی ‘ پھر ایک عرصے بعد اسے یادداشتوں کی مدد سے دوبارہ مرتب کیا گیا اور بنی اسرائیل نے اپنی من پسند روایات کے ذریعے سے بہت سی غلط باتیں اللہ سے منسوب کردیں۔ جیسے اقبال نے کہا ہے : ع ”یہ امتّ روایات میں کھو گئی !“ بہر حال قرآن نے ہرچیز کو کھول کر بیان کردیا اور حقیقت ہر پہلو سے منکشف ہوگئی۔