Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
27:72
قل عسى ان يكون ردف لكم بعض الذي تستعجلون ٧٢
قُلْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم بَعْضُ ٱلَّذِى تَسْتَعْجِلُونَ ٧٢
قُلْ
عَسٰۤی
اَنْ
یَّكُوْنَ
رَدِفَ
لَكُمْ
بَعْضُ
الَّذِیْ
تَسْتَعْجِلُوْنَ
۟
Katakanlah (Muhammad), "Boleh jadi sebagian dari (azab) yang kamu minta disegerakan itu telah hampir sampai kepadamu."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 27:71 hingga 27:75
قیامت کے منکر ٭٭

مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آ گئی ہو۔

جیسے اور آیت میں ہے «عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا» [17-الإسراء:51] ‏ اور جگہ ہے «يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ» [29-العنكبوت:54] ‏ ” یہ عذابوں کو جلدی طلب کر رہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔“ «لکم» کا لام ردف کے «عجل» کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ مجاہد سے رحمہ اللہ مروی ہے۔

پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل و کرم ہیں۔ اس کی بےشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح تمام ظاہر امور اس پر آشکارا ہیں اسی طرح تمام باطنی امور بھی اس پر ظاہر ہیں۔ جیسے فرمایا «سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ» [13-الرعد:10] ‏

اور آیت میں ہے «‏يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰي» [20-طه:7] ‏ اور آیت میں ہے «اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ» ‏ [11-هود:5] ‏ مطلب یہی ہے کہ ہر ظاہر وباطن کا وہ عالم ہے۔

پھر بیان فرماتا ہے کہ ہر غائب حاضر کا اسے علم ہے وہ علام الغیوب ہے۔ آسمان و زمین کی تمام چیزیں خواہ تم کو ان کا علم ہو یا نہ ہو اللہ کے ہاں کھلی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی ہر ایک چیز کا اللہ عالم ہے۔ سب کچھ کتاب میں موجود ہے اللہ پر سب کچھ آسان ہے۔

صفحہ نمبر6493