Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

Tazkir ul Quran Tafsir: An-Naml Ayah 71

27:71
ويقولون متى هاذا الوعد ان كنتم صادقين ٧١
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ٧١
وَیَقُوْلُوْنَ
مَتٰی
هٰذَا
الْوَعْدُ
اِنْ
كُنْتُمْ
صٰدِقِیْنَ
۟
Dan mereka (orang kafir) berkata, "Kapankah datangnya janji (azab) itu, jika kamu orang yang benar."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 27:70 hingga 27:75

’’غم نہ کرو‘‘ کا مطلب داعیٔ حق کو غم سے روکنا نہیں ہے۔ غم تو داعی کی غذا ہے۔ یہ دراصل حق کی بے بسی کی تردید ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سارے ناموافق حالات کے باوجود بہر حال حق کو اور حق کا ساتھ دینے والوں کو کامیابی حاصل ہوگی۔

حق کے داعی کے مخالفین جب حق کے داعی کی مخالفت کرتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک شخص کی مخالفت کررہے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ خود خدا کی مخالفت ہے، نہ کہ محض ایک شخص کی مخالفت۔ یہ صورت حال صرف اس وقت تک باقی رہـتی ہے جب تک امتحان کی مدت ختم نہ ہوئی ہو۔ امتحان کی مقررہ مدت ختم ہوتے ہی خدا کی طاقتیں ظاہر ہوجاتی ہیں اور وہ مخالفین کا اس طرح خاتمہ کردیتی ہیں جیسے کہ کبھی ان کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔ آدمی کے ليے اس سے بڑی کوئی نادانی نہیں کہ وہ آزمائش کی فرصت کو اپنے ليے سرکشی کی فرصت کے ہم معنی بنالے۔