Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
27:59
قل الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى الله خير اما يشركون ٥٩
قُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَـٰمٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ ٱلَّذِينَ ٱصْطَفَىٰٓ ۗ ءَآللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ ٥٩
قُلِ
الْحَمْدُ
لِلّٰهِ
وَسَلٰمٌ
عَلٰی
عِبَادِهِ
الَّذِیْنَ
اصْطَفٰی ؕ
ءٰٓاللّٰهُ
خَیْرٌ
اَمَّا
یُشْرِكُوْنَ
۟
Katakanlah (Muhammad), "Segala puji bagi Allah dan salam sejahtera atas hamba-hamba-Nya yang dipilih-Nya. Apakah Allah yang lebih baik, ataukah apa yang mereka persekutukan (dengan Dia)?"
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
باب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ کہیں کہ ساری تعریفوں کے لائق فقط اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اسی نے اپنے بندوں کو اپنی بےشمار نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں۔ اس کی صفتیں عالی ہیں اس کے نام بلند اور پاک ہیں اور حکم ہوتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برگذیدہ بندوں پر سلام بھیجیں جیسے انبیاء اور رسول علیہم السلام۔ حمدوصلوٰۃ کا ساتھ ہی ذکر آیت «سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ * وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ» ‏ [37-الصافات:181-180] ‏ میں بھی ہے۔

برگزیدہ بندوں سے مراد اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خود انبیاء علیہم السلام بطور اولیٰ اس میں داخل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور ان کے تابعداروں کے بچالینے اور مخالفین کے غارت کر دینے کی نعمت بیان فرما کر اپنی تعریفیں کرنے والے اور اپنے نیک بندوں پر سلام بھیجنے کا حکم دیا۔

اس کے بعد بطور سوال کے مشرکوں کے اس فعل پر انکار کیا کہ وہ اللہ عزوجل کے ساتھ اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ پاک اور بری ہے۔ الحمد للہ انیسواں پارہ ختم ہوا۔

صفحہ نمبر6467