Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Isra' 17:100

17:100
قل لو انتم تملكون خزاين رحمة ربي اذا لامسكتم خشية الانفاق وكان الانسان قتورا ١٠٠
قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّىٓ إِذًۭا لَّأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ ٱلْإِنفَاقِ ۚ وَكَانَ ٱلْإِنسَـٰنُ قَتُورًۭا ١٠٠
قُلْ
لَّوْ
اَنْتُمْ
تَمْلِكُوْنَ
خَزَآىِٕنَ
رَحْمَةِ
رَبِّیْۤ
اِذًا
لَّاَمْسَكْتُمْ
خَشْیَةَ
الْاِنْفَاقِ ؕ
وَكَانَ
الْاِنْسَانُ
قَتُوْرًا
۟۠
Katakanlah (Muhammad), "Sekiranya kamu menguasai perbendaharaan rahmat Tuhanku, niscaya (perbendaharaan) itu kamu tahan, karena takut membelanjakannya." Dan manusia itu memang sangat kikir.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

انسان تنگ ظرف واقع ہوا ہے۔ وہ ہر قسم کے شرف کو اپنے لیے یا اپنے گروہ کے لیے جمع کرلینا چاہتا ہے۔ اگر نعمتوں کی تقسیم انسان کے ہاتھ میں ہوتی تو جن لوگوں کے پاس دولت وعظمت آگئی تھی وہی نبوت کو بھی اپنے پاس جمع کرلیتے۔ وہ اس کو دوسروں کے پاس جانے نہ دیتے۔

مگر خدا معاملات کو جوہر کے اعتبار سے دیکھتا ہے، نہ کہ گروہی تعصبات کی نظر سے۔ وہ تمام انسانوں پر نظر ڈالتا ہے۔ اور پوری نسل میں جو سب سے بہتر انسان ہوتاہے اس کو نبوت کے لیے چن لیتاہے۔ نبوت کا انتخاب اگر انسان کرنے لگیں تو یہاں بھی وہی کیفیت پیدا ہوجائے جو انسانی اداروں میں جانب داری کی وجہ سے نا اہل انسانوں کی بھیڑ کی صورت میں نظر آتی ہے۔