Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: At-Tawbah 9:80

9:80
استغفر لهم او لا تستغفر لهم ان تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم ذالك بانهم كفروا بالله ورسوله والله لا يهدي القوم الفاسقين ٨٠
ٱسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةًۭ فَلَن يَغْفِرَ ٱللَّهُ لَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَـٰسِقِينَ ٨٠
اِسْتَغْفِرْ
لَهُمْ
اَوْ
لَا
تَسْتَغْفِرْ
لَهُمْ ؕ
اِنْ
تَسْتَغْفِرْ
لَهُمْ
سَبْعِیْنَ
مَرَّةً
فَلَنْ
یَّغْفِرَ
اللّٰهُ
لَهُمْ ؕ
ذٰلِكَ
بِاَنَّهُمْ
كَفَرُوْا
بِاللّٰهِ
وَرَسُوْلِهٖ ؕ
وَاللّٰهُ
لَا
یَهْدِی
الْقَوْمَ
الْفٰسِقِیْنَ
۟۠
(Sama saja) engkau (Muhammad) memohonkan ampunan bagi mereka atau tidak memohonkan ampunan bagi mereka. Walaupun engkau memohonkan ampunan bagi mereka tujuh puluh kali, Allah tidak akan memberi ampunan kepada mereka. Yang demikian itu, karena mereka ingkar (kafir) kepada Allah dan Rasul-Nya. Dan Allah tidak memberi petunjuk kepada orang-orang yang fasik.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

یہ منافقین جو مخلص اور رضاکار مومنین کا مذاق اڑاتے تھے ، کہ یہ لوگ اس کا کیوں مال لٹاتے ہیں ان کا انجام یہ ہے کہ خود حضور کے جانب سے طلب مغفرت بھی ان کے لیے مفید نہ ہوگی۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی شفقت کی وجہ سے ان خطاکاروں کے لی بھی مغفرت طلب کرتے تھے شاید کہ اللہ معاف کردے۔

لیکن ان لوگوں کے بارے میں اللہ نے صاف صاف بتا دیا کہ ان منافقین کا انجام طے شدہ ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ ان لوگوں نے صیح راہ سے انحراف کرلیا ہے ، لہذا ان کا اب اچھے انجام تک پہنچنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ان کے دل اس قدر فاسد ہوچکے ہیں کہ ان کی اصلاح ممکن ہی نہیں ہے۔

لہذا حضور کو کہا جاتا ہے کہ اب اگر ستر مرتبہ بھی طلب مغفرت کریں ، کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ستر مرتبہ سے مراد کوئی متعین عدو نہیں ہے۔ اس سے مراد کثرت ہوتی ہے یعنی اب ان کی مغفرت کی کوئی امید نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے لیے توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ کیونکہ انسانی دل اگر فجور اور فساد کی ایک حد سے آگے بڑھ جائے تو پھر اصلاح کی کوئی امید نہیں رہتی اور انسان جب گمراہی میں حد سے گزر جائے تو پھر راہ راست پر واپس آنے کی کوئی امید نہیں رہتی۔ اور اللہ تو دلوں کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔