Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Asy-Syura 42:51

42:51
۞ وما كان لبشر ان يكلمه الله الا وحيا او من وراء حجاب او يرسل رسولا فيوحي باذنه ما يشاء انه علي حكيم ٥١
۞ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ ٱللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَآئِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًۭا فَيُوحِىَ بِإِذْنِهِۦ مَا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ عَلِىٌّ حَكِيمٌۭ ٥١
وَمَا
كَانَ
لِبَشَرٍ
اَنْ
یُّكَلِّمَهُ
اللّٰهُ
اِلَّا
وَحْیًا
اَوْ
مِنْ
وَّرَآئِ
حِجَابٍ
اَوْ
یُرْسِلَ
رَسُوْلًا
فَیُوْحِیَ
بِاِذْنِهٖ
مَا
یَشَآءُ ؕ
اِنَّهٗ
عَلِیٌّ
حَكِیْمٌ
۟
Dan tidaklah patut bagi seorang manusia bahwa Allah akan berbicara kepadanya kecuali dengan perantaraan wahyu atau dari belakang tabir1 atau dengan mengutus utusan (malaikat) lalu diwahyukan kepadanya dengan izin-Nya apa yang Dia kehendaki. Sungguh, Dia Mahatinggi, Mahabijaksana.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

آیت 51 { وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ } ”اور کسی بشر کا یہ مقام نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے“ اللہ تو ہرچیز پر قادر ہے ‘ وہ جو چاہے کرے ‘ مگر کسی انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ اس سے ہم کلام ہو۔ { اِلَّا وَحْیًا } ”سوائے وحی کے“ یہ وحی کی پہلی قسم ہے جسے ”القاء“ یا ”الہام“ کہا جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے براہ راست بندے تک اپنا پیغام پہنچادیتا ہے اور متعلقہ بات اس کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ شہد کی مکھی کی طرف وحی کرنا النحل : 69 ‘ ہر آسمان میں اس سے متعلقہ پیغام پہنچانا حٰمٓ السجدۃ : 12 اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے دل میں القاء کرنا القصص : 7 اس وحی کی مثالیں ہیں جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں۔ { اَوْ مِنْ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ } ”یا پھر وہ بات کرتا ہے پردے کی اوٹ سے“ یہ وحی کی دوسری قسم ہے ‘ جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا : { وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا } النساء۔ { اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآئُ } ”یا وہ بھیجتا ہے کسی پیغام بر َ فرشتے کو ‘ پھر وہ وحی کرتا ہے اللہ کے حکم سے جو وہ چاہتا ہے۔“ یہ وحی کی تیسری قسم ہے ‘ جیسے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے سے پورا قرآن حضور ﷺ کے قلب مبارک پر نازل ہوا۔ { اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیْمٌ } ”وہ بہت بلند وبالا ہے ‘ کمال حکمت والا ہے۔“ اس کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کسی انسان سے براہ راست بغیر حجاب کے کلام کرے ‘ اور وہ کمال حکمت والا ہے ‘ اس نے اپنی حکمت کے مطابق انسانوں تک پیغام رسانی communication کا جو طریقہ چاہا اختیار فرمایا۔