Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Muhammad 47:10

47:10
۞ افلم يسيروا في الارض فينظروا كيف كان عاقبة الذين من قبلهم دمر الله عليهم وللكافرين امثالها ١٠
۞ أَفَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ دَمَّرَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ ۖ وَلِلْكَـٰفِرِينَ أَمْثَـٰلُهَا ١٠
اَفَلَمْ
یَسِیْرُوْا
فِی
الْاَرْضِ
فَیَنْظُرُوْا
كَیْفَ
كَانَ
عَاقِبَةُ
الَّذِیْنَ
مِنْ
قَبْلِهِمْ ؕ
دَمَّرَ
اللّٰهُ
عَلَیْهِمْ ؗ
وَلِلْكٰفِرِیْنَ
اَمْثَالُهَا
۟
Maka apakah mereka tidak pernah mengadakan perjalanan di bumi, sehingga dapat memperhatikan bagaimana kesudahan orang-orang yang sebelum mereka. Allah telah membinasakan mereka, dan bagi orang-orang kafir akan menerima (nasib) yang serupa.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

اس کے بعد انہیں اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ ذرا پیچھے مڑکر تاریخ کو پڑھیں اور غور کریں۔ یہ بات ذرا شدت سے کہی جاتی ہے۔

افلم یسیروا فی الارض۔۔۔۔ امثالھا (47 : 10) “ کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہ تھے کہ ان لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ؟ اللہ نے ان کا سب کچھ ان پر الٹ دیا ، اور ایسے نتائض ان کافروں کے لئے مقدر ہیں ”۔

یہ ایک خوفناک اور خشمگیں نظر ہے۔ اس میں نہات ہی ہیجان اور شروفضاں ہے۔ ان لوگوں کا منظر جن کو چشم زدن میں نیست و نابود کر کے رکھ دیا گیا۔ ان کے تمام آثار مٹا دئیے گئے۔ ملبے کے ڈھیر لگا دئیے گئے ہیں اور وہ ملبے کے ان ڈھیروں کے نیچے کراہ رہے ہیں۔ یہ منظر جسے اس انداز سے پیش کیا گیا ہے ۔ یہاں اس کا اس طرح پیش کرنا ہی مقصود ہے ۔ انداز بیان سے ان اقوام کی تباہی ، بستیوں کا ملبہ بن جانا اور توڑ پھوڑ کا اظہار ہوتا ہے۔

اس قسم کے خوفناک منظر کو پیش کر کے اور الفاظ کے ذریعہ اسکرین پر توڑ پھوڑ دکھا کر حاضرین کو کہا جاتا ہے کہ تمہارا جو رویہ ہے اس کے نتیجے میں کچھ ایسا ہی منظر تمہارے انتظار میں ہے۔

وللکفرین امثالھا (47 : 10) “ ایسے ہی نتائج ان کافروں کے لئے مقدر ہیں ”۔ اس قسم کے نتائج کفار کے انتظار میں کیوں ہیں ؟ اور اہل ایمان کی نصرت اس انداز میں کیوں ہے ؟ یہ اللہ کا دائمی اصول ہے۔