Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Qasas 28:19

28:19
فلما ان اراد ان يبطش بالذي هو عدو لهما قال يا موسى اتريد ان تقتلني كما قتلت نفسا بالامس ان تريد الا ان تكون جبارا في الارض وما تريد ان تكون من المصلحين ١٩
فَلَمَّآ أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِٱلَّذِى هُوَ عَدُوٌّۭ لَّهُمَا قَالَ يَـٰمُوسَىٰٓ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِى كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِٱلْأَمْسِ ۖ إِن تُرِيدُ إِلَّآ أَن تَكُونَ جَبَّارًۭا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلْمُصْلِحِينَ ١٩
فَلَمَّاۤ
اَنْ
اَرَادَ
اَنْ
یَّبْطِشَ
بِالَّذِیْ
هُوَ
عَدُوٌّ
لَّهُمَا ۙ
قَالَ
یٰمُوْسٰۤی
اَتُرِیْدُ
اَنْ
تَقْتُلَنِیْ
كَمَا
قَتَلْتَ
نَفْسًا
بِالْاَمْسِ ۖۗ
اِنْ
تُرِیْدُ
اِلَّاۤ
اَنْ
تَكُوْنَ
جَبَّارًا
فِی
الْاَرْضِ
وَمَا
تُرِیْدُ
اَنْ
تَكُوْنَ
مِنَ
الْمُصْلِحِیْنَ
۟
Maka ketika dia (Musa) hendak memukul dengan keras orang yang menjadi musuh mereka berdua, dia (musuhnya) berkata, "Wahai Musa! Apakah engkau bermaksud membunuhku, sebagaimana kemarin engkau telah membunuh seseorang? Engkau hanya bermaksud menjadi orang yang berbuat sewenang-wenang di negeri (ini), dan engkau tidak bermaksud menjadi salah seorang dari orang-orang yang mengadakan perdamaian."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 28:18 hingga 28:19
جسے بچایا اسی نے راز کھولا ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کے گھونسے سے قبطی مرگیا تھا اس لیے آپ علیہ السلام کی طبیعیت پر گھبراہٹ تھی۔ شہر میں ڈرتے دبکتے آئے کہ دیکھیں کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ کہیں راز کھل تو نہیں گیا۔ دیکھتے ہیں کہ کل والا اسرائیلی آج ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے۔ آپ علیہ السلام کو دیکھتے ہی کل کی طرح آج بھی فریاد اور دہائی دینے لگا۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تم بڑے فتنہ آدمی ہو۔‏“ یہ سنتے ہی وہ گھبرا گیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے اس ظالم قبطی کو روکنے کے لیے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو یہ شخص اپنے کمینہ پن اور بزدلی سے سمجھ بیٹھا کہ آپ علیہ السلام نے مجھے برا کہا ہے اور مجھے پکڑنا چاہتے ہیں اپنی جان بچانے کے لیے شور مچانا شروع کر دیا کہ موسیٰ (‏علیہ السلام) کیا جیسے تو نے کل ایک شخص کا خون کیا تھا آج میری جان بھی لینا چاہتا ہے؟

کل کا واقعہ صرف اسی کی موجودگی میں ہوا تھا اس لیے اب تک کسی کو پتہ نہ چلا تھا؟ لیکن آج اس کی زبان سے اس قبطی کو پتہ چلا کہ یہ کام موسیٰ علیہ السلام کا ہے۔ اس بزدل ڈرپوک نے یہ بھی ساتھ ہی کہا کہ تو زمین پر سرکش بن کر رہنا چاہتا ہے اور تیری طبعیت میں ہی صلح پسندی نہیں۔ قبطی یہ سن کر بھاگا دوڑا دربار فرعونی میں پہنچا اور وہاں مخبری کی۔ فرعون کی بددلی کی اب کوئی حد نہ رہی اور فوراً سپاہی دوڑائے کہ موسیٰ علیہ السلام کو لا کر پیش کریں۔

صفحہ نمبر6550