Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Qasas 28:12

28:12
۞ وحرمنا عليه المراضع من قبل فقالت هل ادلكم على اهل بيت يكفلونه لكم وهم له ناصحون ١٢
۞ وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ ٱلْمَرَاضِعَ مِن قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰٓ أَهْلِ بَيْتٍۢ يَكْفُلُونَهُۥ لَكُمْ وَهُمْ لَهُۥ نَـٰصِحُونَ ١٢
وَحَرَّمْنَا
عَلَیْهِ
الْمَرَاضِعَ
مِنْ
قَبْلُ
فَقَالَتْ
هَلْ
اَدُلُّكُمْ
عَلٰۤی
اَهْلِ
بَیْتٍ
یَّكْفُلُوْنَهٗ
لَكُمْ
وَهُمْ
لَهٗ
نٰصِحُوْنَ
۟
dan Kami cegah dia (Musa) menyusu kepada perempuan-perempuan yang mau menyususi(nya) sebelum itu; maka berkatalah dia (saudaranya Musa), "Maukah aku tunjukkan kepadamu, keluarga yang akan memeliharanya untukmu dan mereka dapat berlaku baik padanya?"
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 28:10 hingga 28:14

حضرت موسیٰ کی حفاظت کو اللہ تعالیٰ نے تمام تر اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ حالاں کہ واقعہ کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ پورا واقعہ اسباب کے تحت پیش آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کا ظہور عام طورپر اسباب کے انداز میں ہوتا ہے، نہ کہ طلسمات اور خوارق کے انداز میں۔

حضرت موسیٰ بے بسی کی حالت میں دریا کی موجوں میں ڈالے گئے مگر وہ پوری طرح محفوظ رہ کر ساحل پر پہنچ گئے۔ بادشاہ وقت نے ان کے قتل کا منصوبہ بنایا مگر اللہ نے اسی بادشاہ کے ذریعہ آپ کی پرورش کا انتظام کیا۔ وہ ایک معمولی خاندان میں پیدا ہوئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شاہی محل سے وابستہ کرکے اعلیٰ ترین سطح پر ان کے ليے وقت کے علوم و آداب سیکھنے کا انتظام کیا۔ یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت لامحدود ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے منصوبہ کو ظہور میں آنے سے روک سکے۔