Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Ahqaf 46:32

46:32
ومن لا يجب داعي الله فليس بمعجز في الارض وليس له من دونه اولياء اولايك في ضلال مبين ٣٢
وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِىَ ٱللَّهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُۥ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءُ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍ ٣٢
وَمَنْ
لَّا
یُجِبْ
دَاعِیَ
اللّٰهِ
فَلَیْسَ
بِمُعْجِزٍ
فِی
الْاَرْضِ
وَلَیْسَ
لَهٗ
مِنْ
دُوْنِهٖۤ
اَوْلِیَآءُ ؕ
اُولٰٓىِٕكَ
فِیْ
ضَلٰلٍ
مُّبِیْنٍ
۟
Dan barangsiapa tidak menerima (seruan) orang yang menyeru kepada Allah (Muhammad) maka dia tidak akan dapat melepaskan diri dari siksaan Allah di bumi, padahal tidak ada pelindung baginya selain Allah. Mereka berada dalam kesesatan yang nyata."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

آیت 32 { وَمَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰہِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ } ”اور جو کوئی لبیک نہیں کہتا اللہ کی طرف پکارنے والے کی پکار پر تو وہ اللہ کو عاجز کرنے والا نہیں ہے زمین میں“ { وَلَیْسَ لَہٗ مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئُط اُولٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”اور نہیں ہوں گے اس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دوسرے مددگار۔ یہی لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔“ یہاں پر ”دَاعِیَ اللّٰہِ“ کے حوالے سے یہ نکتہ ذہن میں مستحضر رکھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک دنیا میں نبوت کا سلسلہ جاری تھا انبیاء ورسل ہی ”اللہ کے داعی“ تھے۔ لیکن اب حضور ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے امتیوں کو ”دَاعِیَ اللّٰہِ“ کی حیثیت سے لوگوں کو قرآن کی طرف بلانا ہے ‘ انہیں اقامت دین کا بھولا ہوا سبق یاد دلانا ہے اور اس جدوجہد میں اپنا تن من دھن کھپانے کے لیے انہیں اس طرح آمادہ کرنا ہے کہ ہر بندہ مومن کی زندگی سورة الانعام کی اس آیت کی تصویر بن جائے : { اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”آپ ﷺ کہیے : میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“ اس کام کے لیے اب چونکہ کوئی نبی نہیں آئے گا ‘ اس لیے ”دعوت الی اللہ“ کا یہ مقدس فریضہ اس امت کو سونپ دیا گیا ہے : { وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا } البقرۃ : 143 ”اور اے مسلمانو ! اسی طرح ہم نے تمہیں ایک امت ِوسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجائو اور رسول ﷺ تم پر گواہ ہو“۔ سورة آلِ عمران میں اس ذمہ داری کی مزید وضاحت اس طرح فرمائی گئی : { کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِِّ } آیت 110 ”تم وہ بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے ‘ تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور َبدی سے روکتے ہو اور تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر۔“