Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: An-Nahl 16:89

16:89
ويوم نبعث في كل امة شهيدا عليهم من انفسهم وجينا بك شهيدا على هاولاء ونزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء وهدى ورحمة وبشرى للمسلمين ٨٩
وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِى كُلِّ أُمَّةٍۢ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَـٰٓؤُلَآءِ ۚ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ تِبْيَـٰنًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ ٨٩
وَیَوْمَ
نَبْعَثُ
فِیْ
كُلِّ
اُمَّةٍ
شَهِیْدًا
عَلَیْهِمْ
مِّنْ
اَنْفُسِهِمْ
وَجِئْنَا
بِكَ
شَهِیْدًا
عَلٰی
هٰۤؤُلَآءِ ؕ
وَنَزَّلْنَا
عَلَیْكَ
الْكِتٰبَ
تِبْیَانًا
لِّكُلِّ
شَیْءٍ
وَّهُدًی
وَّرَحْمَةً
وَّبُشْرٰی
لِلْمُسْلِمِیْنَ
۟۠
Dan (ingatlah) pada hari (ketika) Kami bangkitkan pada setiap umat seorang saksi atas mereka dari mereka sendiri, dan Kami datangkan engkau (Muhammad) menjadi saksi atas mereka. Dan Kami turunkan Kitab (Al-Qur`an) kepadamu untuk menjelaskan segala sesuatu, sebagai petunjuk, serta rahmat dan kabar gembira bagi orang yang berserah diri (muslim).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
کتاب مبین ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرکے فرما رہے ہیں کہ ” اس دن کو یاد کر اور اس دن جو تیری شرافت وکرامت ہونے والی ہے اس کا بھی ذکر کر “۔ یہ آیت بھی ویسی ہی ہے جیسی سورۃ نساء کے شروع کی «فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا» [4-النساء:41] ‏ یعنی ” کیونکر گزرے گی جب کہ ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور ان سب پر گواہ بنا کر کھڑا کریں گے “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سورۃ نساء پڑھوائی جب وہ اس آیت تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس کر کافی ہے ۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں اشکبار تھیں ۔ [صحیح بخاری:5049] ‏

پھر فرماتا ہے ” اپنی اس اتاری ہوئی کتاب میں تیرے سامنے سب کچھ بیان فرما دیا ہے ہر علم اور ہر شے اس قرآن میں ہے۔ ہر حلال حرام، ہر ایک نافع علم، ہر بھلائی گزشتہ کی خبریں، آ ئندہ کے واقعات، دین دنیا، معاش معاد، سب کے ضروری احکام واحوال اس میں موجود ہیں۔ یہ دلوں کی ہدایت ہے، یہ رحمت ہے، یہ بشارت ہے “۔

امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”یہ کتاب سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا کر ہرچیز کا بیان ہے۔‏“ اس آیت کو اوپر والی آیت سے غالباً یہ تعلق ہے کہ ” جس نے تجھ پر اس کتاب کی تبلیغ فرض کی ہے اور اسے نازل فرمایا ہے وہ قیامت کے دن تجھ سے اس کی بابت سوال کرنے والا ہے “۔ جیسے فرمان ہے کہ «فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ» [7-الأعراف:6] ‏ ” امتوں اور رسولوں سے سب سے سوال ہوگا۔ واللہ ہم سب سے ان کے اعمال کی بازپرس کریں گے “۔ «يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّـهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ» [5-المائدة:109] ‏ ” رسولوں کو جمع کر کے ان سے سوال ہوگا کہ تمہیں کیا جواب ملا؟ وہ کہیں گے، ہمیں کوئی علم نہیں، تو علام الغیوب ہے “۔

اور آیت میں ہے «نَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ» [28-القصص:85] ‏ یعنی ” جس نے تجھ پر تبلیغ قرآن فرض کی ہے، وہ تجھے قیامت کے دن اپنے پاس لوٹا کر اپنے سونپے ہوئے فریضے کی بابت تجھ سے پر سش کرنے والا ہے “۔ یہ ایک قول بھی اس آیت کی تفسیر میں ہے اور ہے بھی معقول اور عمدہ۔

صفحہ نمبر4510