Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Bayyinah 98:5

98:5
وما امروا الا ليعبدوا الله مخلصين له الدين حنفاء ويقيموا الصلاة ويوتوا الزكاة وذالك دين القيمة ٥
وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ ۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلْقَيِّمَةِ ٥
وَمَاۤ
اُمِرُوْۤا
اِلَّا
لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ
مُخْلِصِیْنَ
لَهُ
الدِّیْنَ ۙ۬
حُنَفَآءَ
وَیُقِیْمُوا
الصَّلٰوةَ
وَیُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ
وَذٰلِكَ
دِیْنُ
الْقَیِّمَةِ
۟ؕ
Padahal mereka hanya diperintah menyembah Allah dengan ikhlas menaati-Nya semata-mata karena (menjalankan) agama, dan juga agar melaksanakan salat dan menunaikan zakat; dan yang demikian itulah agama yang lurus (benar).1
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

یہ اصول تمام ادیان کا اصل الاصول ہے کہ اللہ وحدہ کی عبادت کرو ، دین صرف اللہ کا ہو ، شرک اور اہل شرک سے دور ہو ، نماز قائم کرو ، زکوٰة ادا کرو۔

وذلک دین القیمة (5:98) ” یہی نہایت صحیح اور درست دین ہے “ یعنی انسانی ضمیر و شعور میں عقیدہ خالص ہو۔ صرف اللہ کی بندگی اور غلامی ہو ، جو اس عقیدے پر مبنی ہو ، اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا جائے ، یعنی زکوٰة دی جائے۔ جس شخص نے بھی ان اصولوں کو حقیقت کا روپ دے دیا تو اس کا ایمان قائم ہوگیا ، جس طرح اہل کتاب کو اس کا حکم دیا گیا تھا۔ اور جس طرح اللہ کے تمام رسولوں کو یہی حکم دیا گیا تھا اور تمام رسولوں اور امتوں کا دین دراصل ایک ہے ، عقیدہ ایک ہے ، جس پر تمام رسولوں کا اجماع رہا ہے اور اس عقیدے اور عمل میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس میں افتراق واختلاف کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ بےحدصاف ستھرا ، سادہ اور آسان ہے۔ لہٰذا اہل کتاب کے ہاں زیر بحث اور زیر جدال عقائد کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ اللہ کے دین میں وہ چیزیں ہیں۔

ان لوگوں کے پاس اس سے قبل ان کے رسولوں کے ذریعہ بھی دلائل آگئے تھے۔ اس کے بعد پھر حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ بھی یہ دلائل آگئے تھے جو پاکیزہ صحیفے پڑھتے ہیں اور انکے سامنے ایسے عقائد پیش کرتے ہیں جو واضح ، سادہ اور آسان ہے لہٰذا صحیح راستہ واضح ہوگیا اور جو لوگ کڑر کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ ان کا انجام بھی واضح ہوگیا۔