Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
6:44
فلما نسوا ما ذكروا به فتحنا عليهم ابواب كل شيء حتى اذا فرحوا بما اوتوا اخذناهم بغتة فاذا هم مبلسون ٤٤
فَلَمَّا نَسُوا۟ مَا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَٰبَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّىٰٓ إِذَا فَرِحُوا۟ بِمَآ أُوتُوٓا۟ أَخَذْنَـٰهُم بَغْتَةًۭ فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ ٤٤
فَلَمَّا
نَسُوْا
مَا
ذُكِّرُوْا
بِهٖ
فَتَحْنَا
عَلَیْهِمْ
اَبْوَابَ
كُلِّ
شَیْءٍ ؕ
حَتّٰۤی
اِذَا
فَرِحُوْا
بِمَاۤ
اُوْتُوْۤا
اَخَذْنٰهُمْ
بَغْتَةً
فَاِذَا
هُمْ
مُّبْلِسُوْنَ
۟
Maka ketika mereka melupakan peringatan yang telah diberikan kepada mereka, Kami pun membukakan semua pintu (kesenangan) untuk mereka. Sehingga ketika mereka bergembira dengan apa yang telah diberikan kepada mereka, Kami siksa mereka secara tiba-tiba, maka ketika itu mereka terdiam putus asa.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 6:42 hingga 6:45

آدمی کے سامنے ایک حق آتا ہے اور وہ اس کو نہیں مانتا تو اللہ اس کو فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس کو مالی نقصان اور جسمانی تکلیف کی صورت میں کچھ جھٹکے دیتا ہے، تاکہ اس کی سوچنے کی صلاحیت بیدار ہو اور وہ اپنے رویہ کے بارے میں نظر ثانی کرے۔ زندگی کے حوادث محض حوادث نہیںہیں، وہ خدا کے بھیجے ہوئے محسوس پیغامات ہیں جو اس لیے آتے ہیں تاکہ غفلت میں سوئے ہوئے انسان کو جگائیں۔ مگر آدمی اکثر ان چیزوں سے نصیحت نہیں لیتا۔ وہ یہ کہہ کر اپنے کو مطمئن کرلیتا ہے کہ یہ تو اتار چڑھاؤ کے واقعات ہیں اور اس قسم کے اتار چڑھاؤ زندگی میں آتے ہی رہتے ہیں۔ اس طرح ہر موقع پر شیطان کوئی خوش نما توجیہہ پیش کرکے آدمی کے ذہن کو نصیحت کے بجائے غفلت کی طرف پھیر دیتا ہے۔ آدمی جب بار بار ایسا کرتاہے تو حق وباطل اور صحیح وغلط کے بارے میں اس کے دل کی حساسیت ختم ہوجاتی ہے۔ وہ قساوت (بے حسی) کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔

جب آدمی خدا کی طرف سے آئی ہوئی تنبیہات کو نظر انداز کردے تو اس کے بعد اس کے بارے میں خدا کا انداز بدل جاتا ہے۔ اب اس کے لیے خدا كا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر آسانیوں اور کامیابیوں کے دروازے کھولے جائیں۔ اس پر خوش حالی کی بارش کی جائے۔ اس کی عزت ومقبولیت میںاضافہ کیا جائے۔ یہ درحقیقت ایک سزا ہے، جو اس لیے ہوتی ہے تاکہ آدمی مطمئن ہو کر اپنی بے حسی کو اور بڑھالے، وہ حق کو نظرانداز کرنے میں اور زیادہ ڈھیٹ ہوجائے اور اس طرح خدا کی سزا کا استحقاق اس کے لیے پوری طرح ثابت ہوجائے۔ جب یہ مقصد حاصل ہوجائے تو اس کے بعد اچانک اس پر خداکا عذاب ٹوٹ پڑتا ہے۔ اس کو دنیوی زندگی سے محروم کرکے آخرت کی عدالت میںحاضر کردیا جاتاہے تاکہ اس کی سرکشی کی سزا میں اس کے لیے جہنم کا فیصلہ ہو۔

یہ دنیا خداکی دنیا ہے۔ یہاںہر قسم کی بڑائی اور تعریف کا حق صرف ایک ذات کے لیے ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص خدا کی طرف سے آئے ہوئے حق کو نظر انداز کردیتاہے تو وہ دراصل خدا کی ناقدری کرتاہے۔ وہ خداکی عظمتوں کی دنیامیں اپنی عظمت قائم کرنا چاہتاہے۔ وہ ایسا ظلم کرتاہے جس سے بڑا کوئی ظلم نہیں۔ وہ اس خدا کے سامنے گستاخی کرتاہے جس کے سامنے عجز کے سوا کوئی اور رویہ کسی انسان کے لیے درست نہیں۔