Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: An-Najm 53:26

53:26
۞ وكم من ملك في السماوات لا تغني شفاعتهم شييا الا من بعد ان ياذن الله لمن يشاء ويرضى ٢٦
۞ وَكَم مِّن مَّلَكٍۢ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ لَا تُغْنِى شَفَـٰعَتُهُمْ شَيْـًٔا إِلَّا مِنۢ بَعْدِ أَن يَأْذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَىٰٓ ٢٦
وَكَمْ
مِّنْ
مَّلَكٍ
فِی
السَّمٰوٰتِ
لَا
تُغْنِیْ
شَفَاعَتُهُمْ
شَیْـًٔا
اِلَّا
مِنْ
بَعْدِ
اَنْ
یَّاْذَنَ
اللّٰهُ
لِمَنْ
یَّشَآءُ
وَیَرْضٰی
۟
Dan betapa banyak malaikat di langit, syafaat (pertolongan) mereka sedikit pun tidak berguna kecuali apabila Allah telah mengizinkan (dan hanya) bagi siapa yang Dia kehendaki dan Dia ridai.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

وکم من ............ ویرضیٰ (35 : 62) ” آسمان میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں۔ ان کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آسکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اس کی اجازت نہ دے جس کے لئے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے۔ “ لہٰذا ان کا دعویٰ بےبنیاد ہے اس سے پہلی آیت میں بھی ان کا بطلان ثابت کردیا گیا ہے اور عقائد کو ہر قسم کے شبہات اور ملاوٹ سے پاک قرار دیا گیا ہے۔ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ دنیا وآخرت دونوں میں فیصلے کا اختیار اللہ کو ہے اور انسان کی تمنائیں اور خواہشات حق میں تبدیلی نہیں لاسکتیں۔ سفارش کی اجازت اللہ کے اذن کے بغیر نہ ہوگی۔ لہٰذا آخری فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔

اس پیراگراف کے آخر میں مشرکین کے اوہام کو آخری بار رد کیا جاتا ہے کہ فرشتوں کے بارے میں مشرکین کے خیالات کسی اصل پر قائم نہیں ہیں۔