Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: At-Tur 52:38

52:38
ام لهم سلم يستمعون فيه فليات مستمعهم بسلطان مبين ٣٨
أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌۭ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ ۖ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُم بِسُلْطَـٰنٍۢ مُّبِينٍ ٣٨
اَمْ
لَهُمْ
سُلَّمٌ
یَّسْتَمِعُوْنَ
فِیْهِ ۚ
فَلْیَاْتِ
مُسْتَمِعُهُمْ
بِسُلْطٰنٍ
مُّبِیْنٍ
۟ؕ
Atau apakah mereka mempunyai tangga (ke langit) untuk mendengarkan (hal-hal yang gaib)? Maka hendaklah orang yang mendengarkan di antara mereka itu datang membawa keterangan yang nyata.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

ام لھم ........ مبین (25 : 83) ” کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہخے جس پر چڑھ کر یہ عالم بالا کی سن گن لیتے ہیں ؟ ان میں سے جس نے سن گن لی ہو وہ لائے کوئی کھلی دلیل۔ “ حضرت محمد ﷺ کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور ان کی طرف وحی آتی ہے اور یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور یہ لوگ تکذیب کرتے ہیں۔ کیا ان کے پاس عالم بالا کی معلومات کا کوئی ذریعہ ہے ؟ کہ محمد ﷺ کی طرف وحی نہیں کی جاتی اور سچائی اور ہے لہٰذا اس قسم کی سن گن رکھنے والا کوئی دلیل لے آئے۔ ایسی دلیل کہ وہ بذات خود اپنی قوت اپنے اندر رکھتی ہو جس کے نتیجے میں انسان تصدیق کرنے پر مجبور ہوجائے۔ اس میں اشارہ ہے ان دلائل کی طرف جو قرآن دیتا ہے کہ یہ دلائل دراصل سلطان مبین ہیں اور دل و دماغ کو فوراً قبضے میں لیتے ہیں۔ اور ان کے مقابلے میں یہ لوگ عناد اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں۔

اب اللہ کے بارے میں ان کے اس قول کو لیا جاتا ہے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور یہ خطاب براہ راست مشرکین مکہ سے کیا جاتا ہے اور یہ ان کو زیادہ شرمندہ اور ذلیل کرنے کے لئے ہے۔