Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: At-Tur 52:32

52:32
ام تامرهم احلامهم بهاذا ام هم قوم طاغون ٣٢
أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلَـٰمُهُم بِهَـٰذَآ ۚ أَمْ هُمْ قَوْمٌۭ طَاغُونَ ٣٢
اَمْ
تَاْمُرُهُمْ
اَحْلَامُهُمْ
بِهٰذَاۤ
اَمْ
هُمْ
قَوْمٌ
طَاغُوْنَ
۟ۚ
Apakah mereka diperintah oleh pikiran-pikiran mereka untuk mengucapkan (tuduhan-tuduhan) ini ataukah mereka kaum yang melampaui batas?
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

ام تامرھم ........ طاغون (25 : 23) ” کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ یادراصل یہ عناد میں حد سے گزرے ہوئے لوگ ہیں “ پہلے سوال میں مزاح ہے اور دوسرے سوال میں ایک ذلیل حرکت کا الزام ہے اور ان لوگوں کا جو موقف ہے اس پر ان میں سے کوئی ایک بات چسپاں ہے۔

رسول اللہ کے بارے میں ان کی زبانیں اس قدر دراز تھیں کہ انہوں نے یہ الزام لگایا کہ آپ یہ کلام اپنی جانب سے بناتے ہیں۔ اس پر بھی ایک سوال کیا جاتا ہے جو ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔ اگر وہ ایسا کہتے ہیں تو یہ ان کو نہیں کہنا چاہئے۔