Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Ahzab 33:56

33:56
ان الله وملايكته يصلون على النبي يا ايها الذين امنوا صلوا عليه وسلموا تسليما ٥٦
إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا ٥٦
اِنَّ
اللّٰهَ
وَمَلٰٓىِٕكَتَهٗ
یُصَلُّوْنَ
عَلَی
النَّبِیِّ ؕ
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
صَلُّوْا
عَلَیْهِ
وَسَلِّمُوْا
تَسْلِیْمًا
۟
Sesungguhnya Allah dan para malaikat-Nya berselawat untuk Nabi.1 Wahai orang-orang yang beriman! Berselawatlah kamu untuk Nabi dan ucapkanlah salam dengan penuh penghormatan kepadanya.2
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 33:56 hingga 33:57

ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واعد لھم عذاب مھینا (56 – 57)

اللہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ عالم بالا میں نبی کی تعریف کی جاتی ہے اور فرشتوں کی طرف سے درود کے معنی یہ ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے لیے دعا کرتے ہیں۔ کیا ہی عظیم مرتبہ ہے حضور ﷺ کا اللہ کے ہاں کہ یہ پوری کائنات آپ کے لیے دعا گو ہے۔ اس کے ذریعہ پوری کائنات منور ہوجاتی ہے اور اللہ کی جانب سے یہ ثنا اور تعریف ہوتی ہے اور جو باقی ہے اور ازلی اور ابدی ہے اور پوری کائنات اس کی ہمقدم ہے۔ اس نعمت اور تکریم سے بڑی اور نعمت کیا ہوسکتی ہے۔ ہم انسانوں کے درودوسلام کا اللہ اور پوری کائنات کے درود وسلام سے کیا مقابلہ۔ انسانوں سے صلوۃ وسلام کا مطالبہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ان کی یہ حقیر آواز بھی کائنات کی گونج سے مل کر اس عظیم ثنا میں شریک ہوجائے اور اس طرح انسان بھی اس بڑی تقریب میں شرکت کے مدعی بن جائیں جبکہ اللہ کی جانب سے صلوٰۃ وسلام تو ازلی اور ابدی ہوگا۔

اس عظیم حمد و ثنا کو دیکھتے ہوئے جس میں رب تعالیٰ ، فرشتے ، کائنات اور انسان بھی شریک ہیں۔ اگر کوئی بدبخت نبی ﷺ جیسے ممدوح کائنات اور رب کائنات کو اذیت دیتا ہے تو اسکا یہ فعل کس قدر گھناؤنا ، کسی قدر قبیح اور قابل ملامت ہوجاتا ہے

ان الذین یوذون اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ واعدلھم عذابا مھینا (33: 57) ” جو لوگ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کردیا ہے۔ یہ فعل اور بھی قبیح ہوجاتا ہے کہ ایک مخلوق اپنے خالق کو اذیت دیتی ہے۔ حالانکہ لوگ اللہ کو اذیت دے ہی نہیں سکتے۔ بلکہ انداز کلام یہ بتاتا ہے کہ وہ رسول اللہ کو اس قدر سخت اذیت دیتے ہیں جس سے گویا اللہ جل و شانہ کو اذیت پہنچتی ہے۔ لہٰذا ان کی یہ حرکت بہت بری ، بہت قبیح اور نہایت گھناؤنی ہے۔ اس کے بعد مومنین و مومنات کی ایذا کا ذکر آتا ہے ان کو اذیت دینا ، ان پر بہتان باندھنا ، کہ ان میں کوئی عیب نہیں جیسے یہ منافقین ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔