Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
2:40
يا بني اسراييل اذكروا نعمتي التي انعمت عليكم واوفوا بعهدي اوف بعهدكم واياي فارهبون ٤٠
يَـٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتِىَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا۟ بِعَهْدِىٓ أُوفِ بِعَهْدِكُمْ وَإِيَّـٰىَ فَٱرْهَبُونِ ٤٠
يٰبَنِىۡٓ
اِسۡرَآءِيۡلَ
اذۡكُرُوۡا
نِعۡمَتِىَ
الَّتِىۡٓ
اَنۡعَمۡتُ
عَلَيۡكُمۡ
وَاَوۡفُوۡا
بِعَهۡدِىۡٓ
اُوۡفِ
بِعَهۡدِكُمۡۚ
وَاِيَّاىَ
فَارۡهَبُوۡنِ‏
٤٠
Wahai Bani Israil!1 Ingatlah nikmat-Ku yang telah Aku berikan kepadamu. Dan penuhilah janjimu kepada-Ku,2 niscaya Aku penuhi janji-Ku kepadamu, dan takutlah kepada-Ku saja.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

جو لوگ بنی اسرائیل کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں ‘ وہ حیران رہ جاتے ہیں کہ باری تعالیٰ نے اس قوم کو کن کن نعمتوں سے نوازا۔ اور یہ کہ نعمتوں کی اس مسلسل بارش کے مقابلے میں وہ کس مکروہ انداز میں بار بار حق کا انکار کرتے رہے ۔ یہاں ابتداء میں اللہ تعالیٰ اجمالاً ان نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو اس نے ان پر کیں۔ اس کے بعد آنے والے پیرا گرافوں میں بالتفصیل ان کا ذکر آتا ہے ۔ یہ انعامات انہیں اس لئے یاد دلائے جاتے ہیں ‎تاکہ انہیں اس بات کی دعوت دی جائے کہ جو عہد تم نے اللہ سے باندھا تھا اسے پورا کرو تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے انعامات کا سلسلہ جاری رکھے اور اپنی نعمتوں سے انہیں نوازدے ۔

يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ ” اے بنی اسرائیل ! ذرا خیال کرو میری اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی ‘ میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا ‘ اسے پورا کرو ‘ تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ تھا اسے میں پورا کروں۔ “

یہاں جس عہد کا ذکر ہورہا ہے ‘ وہ کون سا عہد ہے ؟ کیا اس سے ” عہد اول “ مراد ہے یعنی جو اللہ تعالیٰ اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے درمیان طے پایا تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ (38) وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ” پھر میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے ‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ‘ ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ‘ وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں ‘ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ یا یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ کئے ہوئے ‘ اس عہد الٰہی سے بھی پہلے کا وہ تکوینی عہد ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ اور فطرت انسانی کے درمیان تکمیل پایا ‘ جس میں فطرت کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ وہ اللہ کی معرفت حاصل کرے ۔ اور صرف اللہ وحدہ لاشریک کی پیروی کرے ۔ یہ فطری معاہدہ تو ایسا ہے جو بیان اور برہان کا محتاج نہیں کیونکہ انسانی فطرت اپنی حقیقت اور لدنی میلانات کی بناپر ہی خود بخود معرفت کردگار کی طرف متوجہ ہوا کرتی ہے ۔ صرف گمراہی اور فسادفطرت کی ہی کی وجہ سے انسان معرفت الٰہی سے غافل ہوجاتا ہے ۔ یا یہ وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ‘ بنی اسرائیل کے جد اعلیٰ کے ساتھ کیا اور جس کا ذکر اسی سورت میں عنقریب ہوگا۔ وَاِذبۡتَلٰیَ اِبۡرَاھِیۡمَ رَبَّہُ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنً ذُرِّیَتِیۡ قَالَ لَا یَنَالُ عَھۡدِیۡ الظَّالِمِیۡنَ ” یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اتر گیا تو اس نے کہا ” میں تجھے سب لوگوں کو پیشوا بنانے والا ہوں ۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا ” اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے۔ “ اس نے جواب دیا ” میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے۔ “ (2۔ 124) یہ بنی اسرائیل کا وہ مخصوص عہد ہے جو اللہ نے ان کے ساتھ اس وقت طے کیا ، جبکہ کوہ طور ان کے سروں پر لٹک رہا تھا اور اللہ نے انہیں حکم دیا کہ جو ہدایات انہیں دی جارہی ہیں ، وہ سختی سے ان پر عمل کریں اور جس کا ذکر بنی اسرائیل پر اس طویل تنقید کے ضمن ہی میں (2۔ 93) آرہا ہے۔

یہ تمام عہد اہل بیت کے لحاظ سے ایک ہی ہیں ۔ ان سے مدعا یہ ہے کہ اللہ کے بندے دل وجان سے اس کی طرف متوجہ ہوں ، اپنی پوری زندگی کو اس کے حوالے کردیں اللہ کا دین ایک ہی ہے اور تمام انبیاء جو پیغام لے کر آئے ، وہ ایک ہی ہے یعنی دین اسلام اور آغاز کائنات سے لے کر آج تک قافلہ ایمان ، اسی دین کو شعار بناکر چلتا رہا۔

غرض اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو دعوت دیتے ہیں کہ ان معاہدوں کی پابندی کرتے ہوئے وہ اس سے ڈریں اور اپنے اندر صرف اسی کی خشیت پیدا کریں ۔ وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ ” اور مجھ ہی سے تم ڈرو۔ “

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Baca, Dengarkan, Cari, dan Renungkan Al Quran

Quran.com adalah platform tepercaya yang digunakan jutaan orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengarkan, dan merefleksikan Al-Qur'an dalam berbagai bahasa. Platform ini menyediakan terjemahan, tafsir, tilawah, terjemahan kata demi kata, dan berbagai alat untuk pembelajaran yang lebih mendalam, sehingga Al-Qur'an dapat diakses oleh semua orang.

Sebagai sebuah Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang-orang terhubung secara mendalam dengan Al-Qur'an. Didukung oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi nirlaba 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai referensi yang sangat bernilai dan gratis untuk semua orang, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Qur'an
Qari
Tentang Kami
Pengembang
Pengkinian Produk
Beri Masukan
Bantuan
Menyumbang
Proyek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyek nirlaba yang dimiliki, dikelola, atau disponsori oleh Quran.Foundation
Link populer

Ayat Kursi

Surah Yasin

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahfi

Surah Al Muzzammil

Peta situsKerahasiaanSyarat dan Ketentuan
© 2026 Quran.com. Hak Cipta Terlindungi