Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
2:32
قالوا سبحانك لا علم لنا الا ما علمتنا انك انت العليم الحكيم ٣٢
قَالُوا۟ سُبْحَـٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ ٣٢
قَالُوۡا
سُبۡحٰنَكَ
لَا
عِلۡمَ
لَنَآ
اِلَّا
مَا
عَلَّمۡتَنَا ؕ
اِنَّكَ
اَنۡتَ
الۡعَلِيۡمُ
الۡحَكِيۡمُ‏
٣٢
Mereka menjawab, "Mahasuci Engkau, tidak ada yang kami ketahui selain apa yang telah Engkau ajarkan kepada kami. Sungguh, Engkaulah Yang Maha Mengetahui, Mahabijaksana."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 2:31 hingga 2:33

دیکھئے ! اب ہم چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی ایک جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کا منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں ۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے ۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ نے انسان کو دی ہے ۔ اس کی افادیت کا صحیح تصور اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ انسان .... کے اندر اشیاء کے نام رکھنے اور استعمال کرنے کی قدرت نہیں ہے ۔ اب دیکھئے ایک دوسرے کو سمجھنے میں اور باہم معاملات طے کرنے میں کیا مشکلات ہیں ؟ جن سے اچانک یہ دوچار ہوگئے ۔ اگر کوئی کسی کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو خود اس چیز کا حاضر کرنا ضروری ہوجاتا ہے تاکہ وہ اس کے بارے میں کوئی مفاہمت کرسکیں ۔ اگر کسی درخت کا معاملہ درپیش ہے تو ضروری ہے کہ درخت سامنے ہو۔ اگر کسی پہاڑ اور قطعہ زمین کے بارے میں جو کچھ طے کرنا ہے تو ضروری ہے کہ سب لوگ وہاں جائیں ۔ اگر کسی فرد بشرکا معاملہ ہے تو ضروری ہے کہ اسے سامنے لایاجائے ۔ ذرا سوچئے مشکلات کا ایک طوفان برپا ہوگیا ہے اور جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ غرض اگر اللہ تعالیٰ حضرت انسان کو یہ راز نہ بتاتے کہ ہر معنی ومفہوم کا اظہار ان ناموں کے ذریعے ہوسکتا ہے تو ہماری زندگی دوقدم بھی آگے نہ بڑھ سکتی۔

رہے فرشتے تو انہیں اس قابلیت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ ان کے کام اور ان کی ڈیوٹی کی جو نوعیت تھی اس کے لئے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ ہر چیز کے نام کو جانیں ۔ اس لئے اللہ نے اس وقت فرشتوں کو یہ رازنہ بتایا تھا۔ جب اللہ نے آدم کو یہ راز بتایا اور فرشتوں کے سامنے جب یہ چیزیں پیش کی گئیں تو وہ ان کے نام نہ بتاسکے ۔ وہ یہ نہ جانتے تھے کہہ مختلف چیزوں اور اشخاص کا نام رکھ کر الفاظ کے ذریعے انہیں بسہولت سمجھا جاسکتا ہے ۔ چناچہ انہوں نے اپنی اس ناکامی کو دیکھ کر اللہ کی حمد وثنابیان کی اور اپنے عجز ودرماندگی کا اقرار کیا اور کہہ دیا ان کا علم تو صرف انہی چیزوں تک محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا تعارف کرایا اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر یوں انہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور وسعت علم کی راہنمائی کی ۔” میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ آسمانوں اور زمینوں کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں ۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں۔ “

دیکھئے ! اب چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی کسی جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کو منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہمیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی ہے اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو انسان اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے ۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ نے انسان کو دی ہے ۔ اس کی افادیت کا صحیح تصور اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کرلیں کہ انسان۔۔۔۔۔ کہ اندر اشیاء کے نام رکھنے اور استعمال کرنے کی قدرت نہیں ہے۔ ایک دیکھئے ایک دوسرے کو سمجھنے میں اور باہم معاملات طے کرنے میں کرنے میں کیا مشکلات ہیں ؟ جن سے اچانک یہ دوچار ہوگئے۔ اگر کسی کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو خود اس چیز کا حاضر کرنا ضروری ہوجاتا ہے تاکہ وہ اس کے بارے میں کوئی مفاہمت کرسکیں ۔ اگر کسی درخت کا معاملہ درپیش ہے تو ضروری ہے درخت سامنے ہو ۔ اگر کسی پہاڑ اور قطعہ زمین کے بارے میں کچھ طے کرنا ہے تو ضروری ہے کہ سب لوگ وہاں جائیں ۔ اگر کسی فرد بشر کا معاملہ ہے تو ضروری ہے کہ اسے سامنے لایاجائے ۔ ذرا سوچئے مشکلات کا ایک طوفان برپا ہوگیا ہے اور جینا دوبھر ہوگیا ہے ۔ غرض اگر اللہ تعالیٰ حضرت انسان کو یہ راز نہ بتاتے کہ ہر معنی ومفہوم کا اظہار ناموں کے ذریعے ہوسکتا ہے تو ہماری زندگی دوقدم بھی آگے نہ بڑھ سکتی ۔

رہے فرشتے تو انہیں اس قابلیت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ ان کے کام اور ان کی ڈیوٹی کی جو نوعیت تھی اس کے لئے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ ہر چیز کے نام کو جانیں ۔ اس لئے اللہ نے اس وقت فرشتوں کو یہ راز نہ بتایا تھا ۔ جب اللہ نے آدم کو یہ راز بتایا اور فرشتوں کے سامنے جب چیزیں پیش کی گئیں تو وہ ان کے نام نہ بتاسکے ۔ وہ یہ نہ جانتے تھے کہ مختلف چیزوں اور اشخاص کا نام رکھ کر الفاظ کے ذریعے انہیں بہ سہولت سمجھایا جاسکتا ہے ۔ چناچہ انہوں نے اپنی اس ناکامی کو دیکھ کر اللہ کی حمد وثناء بیان کی اور اپنے عجز اور درماندگی کا اقرار کیا اور کہہ دیا ان کا علم تو صرف انہی چیزوں تک محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی ہیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) تعارف کرایا اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر یوں انہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور وسعت علم کی طرف راہنمائی کی ۔” میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں ۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے میں جانتا ہوں۔ “

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran

Menjadi Donatur Bulanan

Donasi bulanan membantu kami mengembangkan dan mempertahankan operasional Quran.com sehingga kami dapat lebih fokus menciptakan dampak daripada menggalang dana. Pelajari lebih lanjut

Donasi sekarang
Baca, Dengarkan, Cari, dan Renungkan Al Quran

Quran.com adalah platform tepercaya yang digunakan jutaan orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengarkan, dan merefleksikan Al-Qur'an dalam berbagai bahasa. Platform ini menyediakan terjemahan, tafsir, tilawah, terjemahan kata demi kata, dan berbagai alat untuk pembelajaran yang lebih mendalam, sehingga Al-Qur'an dapat diakses oleh semua orang.

Sebagai sebuah Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang-orang terhubung secara mendalam dengan Al-Qur'an. Didukung oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi nirlaba 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai referensi yang sangat bernilai dan gratis untuk semua orang, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Qur'an
Qari
Tentang Kami
Pengembang
Pengkinian Produk
Beri Masukan
Bantuan
Menyumbang
Proyek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyek nirlaba yang dimiliki, dikelola, atau disponsori oleh Quran.Foundation
Link populer

Ayat Kursi

Surah Yasin

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahfi

Surah Al Muzzammil

Peta situsKerahasiaanSyarat dan Ketentuan
© 2026 Quran.com. Hak Cipta Terlindungi