Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
2:13
واذا قيل لهم امنوا كما امن الناس قالوا انومن كما امن السفهاء الا انهم هم السفهاء ولاكن لا يعلمون ١٣
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ ءَامِنُوا۟ كَمَآ ءَامَنَ ٱلنَّاسُ قَالُوٓا۟ أَنُؤْمِنُ كَمَآ ءَامَنَ ٱلسُّفَهَآءُ ۗ أَلَآ إِنَّهُمْ هُمُ ٱلسُّفَهَآءُ وَلَـٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ ١٣
وَاِذَا
قِیْلَ
لَهُمْ
اٰمِنُوْا
كَمَاۤ
اٰمَنَ
النَّاسُ
قَالُوْۤا
اَنُؤْمِنُ
كَمَاۤ
اٰمَنَ
السُّفَهَآءُ ؕ
اَلَاۤ
اِنَّهُمْ
هُمُ
السُّفَهَآءُ
وَلٰكِنْ
لَّا
یَعْلَمُوْنَ
۟
Dan apabila dikatakan kepada mereka, "Berimanlah kamu sebagaimana orang lain yang telah beriman!" Mereka menjawab, "Apakah kami akan beriman seperti orang-orang yang kurang akal itu beriman?" Ingatlah, sesungguhnya mereka itulah orang-orang yang kurang akal, tetapi mereka tidak tahu.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

آیت 13 وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ آخر دیکھو ‘ یہ دوسرے اہل ایمان ہیں ‘ جب بلاوا آتا ہے تو فوراً لبیک کہتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں ‘ جبکہ تم نے اور ہی روش اختیار کر رکھی ہے۔ قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَھَآءُ ط منافقینّ سچے اہل ایمان کے بارے میں کہتے تھے کہ انہیں تو اپنے نفع کی فکر ہے نہ نقصان کی ‘ نہ خطرات کا کوئی خیال ہے نہ اندیشوں کا کوئی گمان۔ جان ‘ مال اور اولاد کی کوئی پروا نہیں۔ یہ گھر بار کو چھوڑ کر آگئے ہیں ‘ اپنے بال بچے کفار مکہ کے رحم و کرم پر چھوڑ آئے ہیں کہ سرداران قریش ان کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں ‘ تو یہ تو بیوقوف لوگ ہیں۔ آج کل آپ ایسے لوگوں کو fanatics کہتے ہیں بھئی دیکھ بھال کر چلنا چاہیے ‘ دائیں بائیں دیکھ کر چلنا چاہیے۔ اپنے نفع و نقصان کا خیال کر کے چلنا چاہیے۔ ٹھیک ہے ‘ اسلام دین حق ہے ‘ لیکن بہرحال اپنی اور اپنے اہل و عیال کی مصلحتوں کو بھی دیکھنا چاہیے۔ یہ لوگ تو معلوم ہوتا ہے بالکل دیوانے اور fanatics ہوگئے ہیں۔ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَھَآءُ وَلٰکِنْ لاَّ یَعْلَمُوْنَ وہ صادق الایمان جو ایمان کے ہر تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ہر وقت حاضر ہیں ‘ ان سے بڑا عقل مند اور ان سے بڑا سمجھ دار کوئی نہیں۔ انہوں نے یہ جان لیا ہے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے ‘ یہ زندگی تو عارضی ہے ‘ تو اگر کل کے بجائے آج ختم ہوجائے یا ابھی ختم ہوجائے تو کیا فرق پڑے گا ؟ یہاں سے جانا تو ہے ‘ آج نہیں تو کل ‘ کل نہیں تو پرسوں ‘ جانا تو ہے۔ تو عقل تو ان کے اندر ہے۔