Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Al-Qasas 28:84

28:84
من جاء بالحسنة فله خير منها ومن جاء بالسيية فلا يجزى الذين عملوا السييات الا ما كانوا يعملون ٨٤
مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيْرٌۭ مِّنْهَا ۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى ٱلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٨٤
مَنْ
جَآءَ
بِالْحَسَنَةِ
فَلَهٗ
خَیْرٌ
مِّنْهَا ۚ
وَمَنْ
جَآءَ
بِالسَّیِّئَةِ
فَلَا
یُجْزَی
الَّذِیْنَ
عَمِلُوا
السَّیِّاٰتِ
اِلَّا
مَا
كَانُوْا
یَعْمَلُوْنَ
۟
Barang siapa yang datang dengan (membawa) kebaikan, maka dia akan mendapat (pahala) yang lebih baik daripada kebaikannya itu; dan barang siapa datang dengan (membawa) kejahatan, maka orang-orang yang telah mengerjakan kejahatan itu hanya diberi balasan (seimbang) dengan apa yang dahulu mereka kerjakan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 28:83 hingga 28:84

اب اس منظر پر بھی پر ودہ گر جاتا ہے۔ دست قدرت کی مداخلت سے اہل ایمان کے دلوں کو قوت ملی۔ اور اللہ کے پیمانوں

میں ایمان کی قوت کو ترجیح ملی۔ اور اب ان مناظر پر بہترین تبصرہ :

تلک الدار الاخرۃ ۔۔۔۔۔۔ والعاقبۃ للمتقین (83)

یہ دار آخرت جس کی بات اہل علم کرتے ہیں یعنی وہ لوگ جن کے پاس سچا علم ہے جو اشیاء کی صحیح قدروقیمت متعین کرتا ہے یہ جہاں نہایت ہی بلند مرتبت ہے۔ بہت ہی وسیع ہے یہ جہاں کس کے لیے ہے ؟

نجعلھا للذین ۔۔۔۔۔ ولا فسادا (28: 83) ” یہ ہم نے ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیا ہے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں “۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال ہی نہیں آتا کہ وہ زمین میں برتری اپنی ذاتی سربلندی کے لیے حاصل کریں۔ وہ تو اپنی ذات اور اپنی شخصیت پر بھی فخر نہیں کرتے۔ ان کی ذات بھی اللہ کے تصور ، اللہ کی یاد اور اللہ کے شعور میں گم ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے نظام حیات کے لیے ساعی ہوتے ہیں ، ان لوگوں کے پیمانوں میں ، اس زمین ، اس کی اشیاء ، اس کے سامان ، اور اس کی اقدار کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔ وہ اقتدار فساد فی الارض کے لیے نہیں حاصل کرتے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ نے دار آخرت تیار کیا ہے جو عالی شان ہے۔

والعاقبۃ للمتقین (28: 83) ” اور انجام کی بھلائی متقین ہی کے لیے ہے “۔ جو اللہ سے ڈرتے ہیں ، جو اس کے غضب سے خائف ہوتے ہیں اور اس کی رضا مندی کے طلبگار ہوتے ہیں “۔

اس جہاں آخرت میں سب لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا ملے گی اور یہ بات اللہ نے اپنے اوپر لکھ دی ہے کہ نیکیوں کا اجر کئی گنا ملے گا اور برائیوں کی سزا ان کے برابر ہوگی۔ زیادہ نہ ہوگی۔ یہ ہے اللہ کی رحیمانہ شان۔