Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: An-Naml 27:3

27:3
الذين يقيمون الصلاة ويوتون الزكاة وهم بالاخرة هم يوقنون ٣
ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ٣
الَّذِیْنَ
یُقِیْمُوْنَ
الصَّلٰوةَ
وَیُؤْتُوْنَ
الزَّكٰوةَ
وَهُمْ
بِالْاٰخِرَةِ
هُمْ
یُوْقِنُوْنَ
۟
(yaitu) orang-orang yang melaksanakan salat dan menunaikan zakat, dan mereka meyakini adanya akhirat.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

وہ نماز قائم کرتے ہیں اور نماز کی ادائیگی اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس کا حق شبے یوں کہ جب وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں تو ان کے دل جاگ رہے ہوں اور اس وقت ان کو یہ شعور ہو کہ وہ ذوالجلال والا کرام کے دربار میں کھڑے ہیں ۔ اس وقت ان کی توجہ اس بلند افق پر ہو ، ان کے دل مناجات الٰہی میں مشغول ہوں ، اسے پکار رہے ہوں اور اسکے عظیم دربار میں حاضر ہوں۔

وہ زکوۃ دیتے ہیں ، اس طرح ان کے نفوس کنجوسی کی رذالت سے نجات پا جائیں۔ یوں ان کی روح مال کے فتنوں سے سربلند ہوجائے اور وہ بعض ان نادار بھائیوں کے ساتھ مربوط ہوجائیں اور ان تک رزق پہنچا دیں اور اس طرح اپنی اجتماعی ذمہ داریاں ادا کردیں۔

وہ آخرت پر پختہ یقین رکھتے ہوں۔ ہر وقت ان کو احساس ہو کہ آخرت میں اللہ کے سامنے جواب دینا ہے۔ ان کا دل امور آخرت میں مشغول ہو ، ان کا دل خدا کے خوف سے بھرا ہو اور انسانی خواہشات ان کے دل پر اثر نہ کرتی ہوں۔ اللہ کی خشیت اور قیامت کے حساب و کتاب کا غم ان کو کھائے جا رہا ہو۔

یہ مومن ، اللہ کو یاد کرنے والے ، اس کے فرائض ادا کرنے والے ، اس سے ڈرنے والے اصحاب خشیت اللہ کے جر اور ثواب کے امیدوار یہ ہیں وہ لوگ جن کے دل قرآن کے لئے کھل جاتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لئے قرآن ہدایت و بشارت بن جاتا ہے۔ وہ ان کی روح کا نور بن جاتا ہے ، یہ ان کے خون کو گرم کردیتا ہے اور ان کی زندگی کو متحرک بنا دیتا ہے اور یہ قرآن پھر ان کا زاد راہ بن جاتا ہے جس کے ذریعے وہمنزل مقصود کو پہنچتے ہیں اور اپنے رب سے مربوط ہوجاتے ہیں۔

ذکر آخرت کے حوالے سے مزید تاکید کرتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ جو آخرت پر پختہ یقین نہیں رکھتے وہ اپنی گمراہی میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اچانک وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔