Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Taha 20:59

20:59
قال موعدكم يوم الزينة وان يحشر الناس ضحى ٥٩
قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ ٱلزِّينَةِ وَأَن يُحْشَرَ ٱلنَّاسُ ضُحًۭى ٥٩
قَالَ
مَوْعِدُكُمْ
یَوْمُ
الزِّیْنَةِ
وَاَنْ
یُّحْشَرَ
النَّاسُ
ضُحًی
۟
Dia (Musa) berkata, "(Perjanjian) waktu (untuk pertemuan kami dengan kamu itu) ialah pada hari raya dan hendaklah orang-orang dikumpulkan pada pagi hari (duha)."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

قال موعدکم یوم الزینۃ (02 : 95) موسیٰ نے کہا جشن کا دن طے ہوا۔ “ اور یہ بھی کہا کہ سورج نکلتے ہیں لوگ جمع ہوں تاکہ جگہ کھلی ہو ، وقت لوگوں کے اجتماع کا ہو ، صبح کا وقت اس لئے کہ زیادہ سے زیادہ آسکیں ، نہ گرمی ہو ، نہ رات کا اندھیرا ہو۔ بہت سویرے بھی نہ ہو کہ لوگ گھروں سے نکلنے کے لیء ابھی فارغ ہی نہ ہوئے ہوں۔ دوپہر بھی نہ ہو کہ بہت گرمی ہوتی ہے ، شام بھی نہ ہو کہ اندھیرا ہوجاتا ہے۔ لوگ جمع بھی نہیں ہوتے اور پھر روشنی کا بھی مسئلہ ہوتا ہے ۔ الصحیٰ یعنی دن چڑھنے کا وقت سب سے موزوں ہے۔

اب یہ منظر موسیٰ و ہارون اور فرعون کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات کا منظر یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ ایک طرف ایک مومن داعی ہے اور دوسری طرف ایک متکبر اور سرکش مقتدر اعلیٰ …پردہ گرتا ہے اور آئندہ ملاقات کے میدان میں ہوگی۔