Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Maryam 19:43

19:43
يا ابت اني قد جاءني من العلم ما لم ياتك فاتبعني اهدك صراطا سويا ٤٣
يَـٰٓأَبَتِ إِنِّى قَدْ جَآءَنِى مِنَ ٱلْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَٱتَّبِعْنِىٓ أَهْدِكَ صِرَٰطًۭا سَوِيًّۭا ٤٣
یٰۤاَبَتِ
اِنِّیْ
قَدْ
جَآءَنِیْ
مِنَ
الْعِلْمِ
مَا
لَمْ
یَاْتِكَ
فَاتَّبِعْنِیْۤ
اَهْدِكَ
صِرَاطًا
سَوِیًّا
۟
Wahai ayahku! Sungguh, telah sampai kepadaku sebagian ilmu yang tidak diberikan kepadamu, maka ikutilah aku, niscaya aku akan menunjukkan kepadamu jalan yang lurus.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

یآبت انی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صراطا سویا (91 : 34) ” ابا جان ‘ میرے پاس ایک ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا ‘ آپ میرے پیچھے چلیں ‘ میں آپ کو سیدھا راستہ دکھائوں گا “۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک والد اپنے ہدایت یافتہ بیٹے کے پیچھے چلے ‘ اگر ایک بیٹا نبی ہو اور اس کا اعلیٰ ذریعہ علم سے رابطہ ہو۔ اس صورت میں والد بیٹے کی نہیں بلکہ اس اعلیٰ شرچشمے کی اطاعت کر رہا ہوتا ہے اور ہدایت یافتہ ہوجاتا ہے۔

اس وضاحت کے بعد کہ بتوں کی بندگی کرنا ایک منکر فعل ہے اور یہ کہ میری دعوت کا سرچشمہ ذات باری ہے جبکہ والد جس موقف کو اپنائے ہوئے ہیں اس کا سرچشمہ کچھ اور ہے اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صراحت کے ساتھ بتاتے ہیں کہ والد صاحب ‘ آپ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ شیطان کی راہ ہے ‘ جبکہ میں جس راہ کی طرف آپ کو بلارہا ہوں وہ رحمن کی راہ ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ اے باپ ‘ آپ پر اللہ کا غضب نازل نہ ہوجائے اور آپ اور آپ ہمیشہ کے لئے شیطان کے پیروکاروں میں شامل ہوجائیں۔