Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Yusuf 12:79

12:79
قال معاذ الله ان ناخذ الا من وجدنا متاعنا عنده انا اذا لظالمون ٧٩
قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَـٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذًۭا لَّظَـٰلِمُونَ ٧٩
قَالَ
مَعَاذَ
اللّٰهِ
اَنْ
نَّاْخُذَ
اِلَّا
مَنْ
وَّجَدْنَا
مَتَاعَنَا
عِنْدَهٗۤ ۙ
اِنَّاۤ
اِذًا
لَّظٰلِمُوْنَ
۟۠
Dia (Yusuf) berkata, "Aku memohon perlindungan kepada Allah dari menahan (seseorang), kecuali orang yang kami temukan harta kami padanya, jika kami (berbuat) demikian, berarti kami orang yang zalim."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ نہیں کہا کہ پناہ خدا کی ، کہ ہم کسی چور کے بدلے ایک بےگناہ کو پکڑ لیں۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بھائی چور نہیں ہے ، اس لیے انہوں نے نہایت ہی ٹیکنیکل انداز تعبیر اختیار کیا۔ اگرچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زبان مصری ہوگی لیکن قرآن نے ان کی جو حالت بتائی ہے ظاہر ہے وہ اصل کے مطابق ہے۔ “ جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ”۔ ان الفاظ میں بالکل سادہ حقیقت کا اظہار ہے ، نہ الزام ہے اور اس کی طرف اشارہ کہ مال رکھا کس نے۔

انا اذا لظلمون “ اگر ہم دوسرے کو گرفتار کریں تو ہم ظالم ہوں گے ”۔ بس یہ آخری بات تھی ۔ وہ سمجھ گئے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ اب وہ سوچنے لگے کہ والد کو کس طرح منہ دکھائیں گے۔