Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Yusuf 12:5

12:5
قال يا بني لا تقصص روياك على اخوتك فيكيدوا لك كيدا ان الشيطان للانسان عدو مبين ٥
قَالَ يَـٰبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا۟ لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ ٱلشَّيْطَـٰنَ لِلْإِنسَـٰنِ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ ٥
قَالَ
یٰبُنَیَّ
لَا
تَقْصُصْ
رُءْیَاكَ
عَلٰۤی
اِخْوَتِكَ
فَیَكِیْدُوْا
لَكَ
كَیْدًا ؕ
اِنَّ
الشَّیْطٰنَ
لِلْاِنْسَانِ
عَدُوٌّ
مُّبِیْنٌ
۟
Dia (ayahnya) berkata, "Wahai anakku! Janganlah engkau ceritakan mimpimu kepada saudara-saudaramu, mereka akan membuat tipu daya (untuk membinasakan)mu. Sungguh, setan itu musuh yang jelas bagi manusia."
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

حضرت یعقوب نے خواب کو راز میں رکھنے کا سبب یہ بتایا کہ شیطان انسان کا دشمن ہے اور بعض لوگوں کے دلوں کو دوسرے کے خلاف حسد اور بغض سے بھر دیتا ہے اور وہ لوگوں کو آمادہ کرتا رہتا ہے کہ وہ غلطی کریں ، شر کریں اور بڑی بڑی غلطیوں کو وہ لوگوں کے سامنے معمولی کرکے اور خوشنما کرکے پیش کرتا ہے۔

حضرت یعقوب ابن حضرت اسحاق ابن ابراہیم (علیہم السلام) تھے نبوت کا خاندان تھا۔ انہوں نے خوب سنتے ہی محسوس کرلیا تھا کہ یہ بیٹا ایک تابناک مستقبل کا مالک ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ یہ تابناک مستقبل دین ، اصلاح اور علم و معرفت کے میدان میں ہوگا۔ پھر ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں اس شمع نے روشن رہنا تھا ، لہذا وہ یہ توقع رکھتے تھے کہ وارث نبوت یقینا حضرت یوسف ہیں ہیں۔ اس لیے انہوں نے ان کو اس کی بشارت دے دی :