Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Yusuf 12:36

12:36
ودخل معه السجن فتيان قال احدهما اني اراني اعصر خمرا وقال الاخر اني اراني احمل فوق راسي خبزا تاكل الطير منه نبينا بتاويله انا نراك من المحسنين ٣٦
وَدَخَلَ مَعَهُ ٱلسِّجْنَ فَتَيَانِ ۖ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَعْصِرُ خَمْرًۭا ۖ وَقَالَ ٱلْـَٔاخَرُ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِى خُبْزًۭا تَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِنْهُ ۖ نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِۦٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ ٣٦
وَدَخَلَ
مَعَهُ
السِّجْنَ
فَتَیٰنِ ؕ
قَالَ
اَحَدُهُمَاۤ
اِنِّیْۤ
اَرٰىنِیْۤ
اَعْصِرُ
خَمْرًا ۚ
وَقَالَ
الْاٰخَرُ
اِنِّیْۤ
اَرٰىنِیْۤ
اَحْمِلُ
فَوْقَ
رَاْسِیْ
خُبْزًا
تَاْكُلُ
الطَّیْرُ
مِنْهُ ؕ
نَبِّئْنَا
بِتَاْوِیْلِهٖ ۚ
اِنَّا
نَرٰىكَ
مِنَ
الْمُحْسِنِیْنَ
۟
Dan bersama dia masuk pula dua orang pemuda ke dalam penjara.1 Salah satunya berkata, "Sesungguhnya aku bermimpi memeras anggur." Dan yang lainnya berkata, "Aku bermimpi, membawa roti di atas kepalaku, sebagiannya dimakan burung." Berikanlah kepada kami takwilnya. Sesungguhnya kami memandangmu termasuk orang yang berbuat baik.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

عنقریب سیاق کلام میں یہ بات ظاہر ہوگی کہ یہ لوگ بادشاہ کے خواص اور خدام میں سے تھے۔ یہاں قرآن مجید میں حضرت یوسف کے زمانہ قید کے حالات تفصیل سے بیان نہیں کیے گئے ، لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ قید خانے میں آپ کی طہارت اخلاق اور نیکی اور سنجیدگی اور وقار اس قدر عام ہوگیا کہ تمام قیدیوں میں آپ ایک مثال بن گئے۔ تمام قیدیوں کے لیے معتمد اعلی بن گئے ، ان قیدیوں میں وہ لوگ بھی تھے جو شاہی عتاب کی وجہ سے قید خانے میں پڑے تھے۔ کیونکہ شاہی محل اور شاہی دربار میں دربار میں ان سے کچھ قصور سرزد ہوگئے ہوں گے۔ چناچہ ان پر عارضی طور پر عتاب وارد ہوگیا تھا۔ بہرحال قرآن واقعات قصے کو جلدی آگے بڑھانے کے لیے باقی تفصیلات ترک کردیتا ہے اور صرف دو نوجوانوں کا تذکرہ کرتا ہے۔ یہ دو نوجوان حضرت یوسف کے پاس آئے اور انہوں نے ان کے سامنے اپنے خوابوں کو پیش کیا اور یہ مطالبہ کیا کہ آپ ان کی تعبیر بتائیں۔ ان لوگوں نے تعبیر خواب کے لیے حضرت یوسف کا انتخاب کیوں کیا ؟ اس لیے کہ وہ دیکھ رہے تھے کہ وہ سچے ، نیک عبادت گزار اور ذکر و فکر کے مالک تھے۔

قید خانے میں دو غلام اور بھی اس کے ساتھ داخل ہوئے ، ایک روز ان میں سے ایک نے کہا میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں دوسرے نے کہا " میں نے دیکھا کہ میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے ان کو کھا رہے ہیں " دونوں نے کہا ہمیں اس کی تعبیر بتائیے ، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں۔ اب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ موقعہ ہاتھ آگیا کہ وہ قیدیوں کے سامنے اپنا نظریہ حیات پیش کریں۔ ان کو صحیح عقیدہ دیں ، کیونکہ قیدی کے لیے یہ ممنوع نہیں ہے کہ ان کا عقیدہ اچھا ہو۔ قیدیوں کی نظریاتی اور عملی تربیت بھی ضروری ہے۔ لہذا حضرت یوسف ان کو تلقین کرتے ہیں کہ تمام خرابیوں کی جڑ فاسد نظام زندگی ہے جس میں حکم اور اقتدار اعلی اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ہو۔ چناچہ وہ ان کو تلقین کرتے ہیں کہ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کو اس کرہ ارض کا رب تسلیم کرنا اصل گمراہی ہے ، اس طرح حکمران فرعون بن جاتے ہیں۔

حضرت یوسف اپنی بات کا آغاز اس موضوع سے کرتے ہیں جس میں اس کے جیل کے دونوں ساتھیوں کو دلچسپی ہے۔ لیکن ان سے وعدہ کرتے ہیں کہ تمہارے دلچسپی کے موضوع پر بات ذرا بعد میں آئے گی۔ اور وہ خوابوں کی صحیح تعبیر بتا دیں گے کیونکہ اس شعبے میں اللہ نے ان کو علم لدنی دیا ہے اور یہ اس لیے دیا ہے کہ میں اللہ کی بندگی کرتا ہوں اور اللہ کے ساتھ میں اور میرے آباء و اجداد کسی کو شریک نہیں کرتے ، یوں حضرت یوسف ان لوگوں کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ تعبیر خواب بھی بتائیں گے اور یہ کہ حضرت یوسف کا دین بھی نہایت ہی متین دین ہے۔