Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa

tafsir: Hud 11:66

11:66
فلما جاء امرنا نجينا صالحا والذين امنوا معه برحمة منا ومن خزي يوميذ ان ربك هو القوي العزيز ٦٦
فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا صَـٰلِحًۭا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍۢ مِّنَّا وَمِنْ خِزْىِ يَوْمِئِذٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْعَزِيزُ ٦٦
فَلَمَّا
جَآءَ
اَمْرُنَا
نَجَّیْنَا
صٰلِحًا
وَّالَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
مَعَهٗ
بِرَحْمَةٍ
مِّنَّا
وَمِنْ
خِزْیِ
یَوْمِىِٕذٍ ؕ
اِنَّ
رَبَّكَ
هُوَ
الْقَوِیُّ
الْعَزِیْزُ
۟
Maka ketika keputusan Kami datang, Kami selamatkan Saleh dan orang-orang yang beriman bersamanya dengan rahmat Kami dan (Kami selamatkan) dari kehinaan pada hari itu. Sungguh, Tuhanmu, Dia Mahakuat, Mahaperkasa.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 11:66 hingga 11:67

جب اللہ کے امر کا وقت قریب ہوگیا اور امر یہ تھا کہ یا تو یہ لوگ ڈر جائیں اور ایمان لے آئیں ورنہ پھر انہیں نیست و نابود کردیا جائے تو اس وقت ہم نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے ساتھیوں کو اپنی رحمت کی وجہ سے نجات دی ، یہ نجات صرف ان کے لیے تھی اور ان کے ساتھ مخصوص تھی۔ یعنی ان کو موت سے بھی نجات دی اور اس دن کی شرمندگی اور ذلت سے بھی نجات دی کیونکہ ان کو زندگی سے معمول کے مطابق محروم نہیں کیا گیا بلکہ بڑی ذلت کے ساتھ ان سے حیات کو چھینا گیا۔ اور جب ایک سخت آواز نے ان کو آ لیا تو یہ سب کے سب مر گئے۔ اور جو جہاں تھا ، وہیں گر گیا اور یہ ان کے لیے ذلت آمیز موت تھی۔

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ (11 : 66) “ بیشک تیرا رب ہی دراصل طاقتور اور بالادست ہے۔ ” وہ نافرمانوں کو خوب پکڑتا ہے اور یہ کام اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اسی طرح وہ اپنے دوستوں کی خوب رعایت بھی کرتا ہے اور ان پر فضل بھی کرتا ہے۔

اب یہاں قرآن مجید اشارہ بتاتا ہے کہ اس عذاب کے نتیجے میں ان کی حالت کیا ہوگئی ۔ تعجب انگیز اور عبرت آموز طریقے سے بتایا جاتا ہے کہ وہ کس قدر عجلت کے ساتھ نیست ونابود کردیئے گئے۔