Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma
11:17
افمن كان على بينة من ربه ويتلوه شاهد منه ومن قبله كتاب موسى اماما ورحمة اولايك يومنون به ومن يكفر به من الاحزاب فالنار موعده فلا تك في مرية منه انه الحق من ربك ولاكن اكثر الناس لا يومنون ١٧
أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّهِۦ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌۭ مِّنْهُ وَمِن قَبْلِهِۦ كِتَـٰبُ مُوسَىٰٓ إِمَامًۭا وَرَحْمَةً ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِهِۦ مِنَ ٱلْأَحْزَابِ فَٱلنَّارُ مَوْعِدُهُۥ ۚ فَلَا تَكُ فِى مِرْيَةٍۢ مِّنْهُ ۚ إِنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ ١٧
أَفَمَن
كَانَ
عَلَىٰ
بَيِّنَةٖ
مِّن
رَّبِّهِۦ
وَيَتۡلُوهُ
شَاهِدٞ
مِّنۡهُ
وَمِن
قَبۡلِهِۦ
كِتَٰبُ
مُوسَىٰٓ
إِمَامٗا
وَرَحۡمَةًۚ
أُوْلَٰٓئِكَ
يُؤۡمِنُونَ
بِهِۦۚ
وَمَن
يَكۡفُرۡ
بِهِۦ
مِنَ
ٱلۡأَحۡزَابِ
فَٱلنَّارُ
مَوۡعِدُهُۥۚ
فَلَا
تَكُ
فِي
مِرۡيَةٖ
مِّنۡهُۚ
إِنَّهُ
ٱلۡحَقُّ
مِن
رَّبِّكَ
وَلَٰكِنَّ
أَكۡثَرَ
ٱلنَّاسِ
لَا
يُؤۡمِنُونَ
١٧
Podem ser iguais àqueles que têm uma evidência de seu Senhor, confirmada por uma testemunha enviada por Ele, precedida pelo Livro de Moisés, sendo guia e misericórdia? Qual! Aqueles crêem nele (o Alcorão); mas aquele dos partidosque o negar, sua morada será o fogo infernal. Não duvides disso, porque é a verdade do teu Senhor; porém, a maioria doshumanos não crê.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith

پیغمبر اسلام نے عرب میں توحید کی دعوت پیش کی تو کچھ لوگوں نے اس کو مانا اور زیادہ لوگ اس کے منکر ہوگئے۔ یہی ہر زمانہ میں دعوت حق کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔

خدا نے ہر آدمی کو فطرتِ صحیح پر پیدا کیا ہے۔ گردو پیش کی دنیا میں ہر طرف ایسی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں جو اپنے خالق کا اعلان کرتی ہیں اور اسی کے ساتھ اس کے تخلیقی منصوبہ کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔ پھر انسانیت کے بالکل ابتدائی زمانہ سے خدا کے رسول آتے رہے اور خدا کی باتیں لوگوں کو بتاتے رہے۔ انھیں میں سے ایک پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ جن کی لائی ہوئی کتاب اب تک کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ اب جو شخص سنجیدہ ہو اور چیزوں سے سبق لینا جانتا ہو تو وہ حقیقت سے اتنا مانوس ہوگا کہ داعی جب اس کے سامنے حقیقت کا اعلان کرے گا تو فوراً وہ اس کو پہچان لے گا۔ اس کا دل اور اس کا دماغ حق کے حق ہونے پر گواہی دیں گے۔وہ آگے بڑھ کراس کو اس طرح اختیار کرلے گا جیسے وہ اس کے اپنے دل کی آواز ہو۔

مگر اکثر لوگوں کا حال یہ ہوتاہے کہ وہ چیزوں کو بہت زیادہ سنجیدگی کے ساتھ نہیں دیکھتے۔ وہ سطحی تماشوں اور وقتی دلچسپیوں میںپڑ کر اپنا مزاج بگاڑ لیتے ہیں۔ غیر متعلق چیزوں کی مصروفیت انھیں اس کا موقع نہیں دیتی کہ وہ داعی اور اس کی دعوت پر ٹھہر کر سوچیں۔ چنانچہ ان کے سامنے جب حق کی دعوت آتی ہے تو وہ اس کو پہچان نہیں پاتے۔ وہ اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اس کے منکر بلکہ مخالف بن جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے خدا کی اور خدا کے تخلیقی منصوبہ کی ناقدری کی۔ ان کے لیے آخرت میں جہنم کی آگ کے سوا اور کچھ نہیں۔

انسانی فطرت، زمین وآسمان کے واقعات اور پچھلی آسمانی کتابیں قرآن کے حق ہونے کی گواہی دے رہی ہیں۔ اس کے بعد اگر لوگوں کی اکثریت اس کا انکار کرتی ہے تو اس کی وجہ منکرین کے اندر تلاش کی جائے گی، نہ یہ کہ خود قرآن کے کتاب حق ہونے پر شک کیا جائے۔