Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tazkir ul Quran Tafsir : Sad Ayah 68

38:68
انتم عنه معرضون ٦٨
أَنتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ ٦٨
أَنتُمۡﱴ
عَنۡهُﱵ
مُعۡرِضُونَﱶ
٦٨ﱷ
mais vous vous en détournez.
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 38:65 à 38:70

یہاں جس اختصام (تکرار) کا ذکر ہے وہ وہی ہے جو اگلی آیت میں منقول ہے یعنی آدم کی تخلیق کے وقت ابلیس کا بحث وتکرار کرنا۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ شیطان پہلے روز سے آدم کا دشمن بن گیا ہے۔ وہ پرفریب باتوں کے ذریعہ اولاد آدم کو سیدھے راستہ سے بھٹکاتا ہے۔ اس ليے انسان کو چاہيے کہ وہ ہوشیار رہے اور اس سے پوری طرح بچنے کی کوشش کرے۔ اس سلسلہ میں آدمی کی پیدائش کے وقت جو اختصام ہوا اور اس کو قرآن میں بیان کیا گیا وہ سراسر وحی تھا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ملأ اعلیٰ میں موجود نہ تھے کہ ذاتی واقفیت کی بنیاد پر اس کو بیان کرسکتے۔

سب سے اہم خبر انسان کےلیے یہ ہے کہ اس کو زندگی کی اس نوعیت سے آگاہ کیا جائے کہ شیطان ہر لمحہ اس کے پیچھے لگا ہوا ہے، وہ اس کی سوچ اور اس کے جذبات میں داخل ہو کر اس کو گمراہ کررہا ہے۔ انسان کو چاہيے کہ وہ اس خطرے سے اپنے آپ کو بچائے۔ پیغمبر ایک اعتبار سے اسی ليے آئے کہ انسان کو اس نازک خطرہ سے آگاہ کردیں۔