Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tazkir ul Quran Tafsir : Al-Anbiya' Ayah 9

21:9
ثم صدقناهم الوعد فانجيناهم ومن نشاء واهلكنا المسرفين ٩
ثُمَّ صَدَقْنَـٰهُمُ ٱلْوَعْدَ فَأَنجَيْنَـٰهُمْ وَمَن نَّشَآءُ وَأَهْلَكْنَا ٱلْمُسْرِفِينَ ٩
ثُمَّﲦ
صَدَقۡنَٰهُمُﲧ
ٱلۡوَعۡدَﲨ
فَأَنجَيۡنَٰهُمۡﲩ
وَمَنﲪ
نَّشَآءُﲫ
وَأَهۡلَكۡنَاﲬ
ٱلۡمُسۡرِفِينَﲭ
٩ﲮ
Puis, Nous réalisâmes la promesse (qui leur avait été faite). Nous les sauvâmes avec ceux que Nous voulûmes [sauver] et Nous fîmes périr les outranciers.
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 21:7 à 21:9

جو لوگ یہ کہہ کہ پیغمبر کا انکار کرتے تھے کہ یہ تو ہماری طرح کے ایک انسان ہیں، ان سے کہاگیا کہ اگر تم اپنے اس اعتراض میں سنجیدہ ہو تو تمھارے لیے معاملہ کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں۔ بہت سی گزری ہوئی ہستیاں جن کو تم پیغمبر تسلیم کرتے ہو، ان کے جاننے والے موجود ہیں۔ پھر ان جاننے والوں سے تحقیق کر لو کہ وہ انسان تھے یا غیر انسان اگر وہ انسان تھے تو موجودہ پیغمبر کو تم صرف اس بنا پر کیسے رد کرسکتے ہو کہ وہ ایک ماں باپ کے ذریعہ عام انسان کی طرح پیدا ہوئے ہیں۔

گزشتہ پیغمبروں کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ان کا اقرار یا انکار لوگوں کے لیے محض سادہ قسم کا اقرار یا انکار نہ تھا۔ اس نے دونوں گروہوں کے لیے واضح طورپر الگ الگ نتیجہ پیدا کیا۔ اقرار کرنے والوں نے نجات پائی اور انکار کرنے والے ہلاک کردئے گئے۔ اس لیے اس معاملہ میں تم کو حد درجہ سنجیدہ ہونا چاہیے۔