Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue
63:2
اتخذوا ايمانهم جنة فصدوا عن سبيل الله انهم ساء ما كانوا يعملون ٢
ٱتَّخَذُوٓا۟ أَيْمَـٰنَهُمْ جُنَّةًۭ فَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٢
ٱتَّخَذُوٓاْ
أَيۡمَٰنَهُمۡ
جُنَّةٗ
فَصَدُّواْ
عَن
سَبِيلِ
ٱللَّهِۚ
إِنَّهُمۡ
سَآءَ
مَا
كَانُواْ
يَعۡمَلُونَ
٢
Ils prennent leurs serments pour bouclier et obstruent le chemin d’Allah. Quelles mauvaises choses que ce qu’ils faisaient !
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 62:9 à 63:3

یہ کسی آدمی کے نفاق کی علامت ہے کہ وہ بڑی بڑی باتیں کرے۔ اور قسم کھا کر اپنی بات کا یقین دلائے۔ مخلص آدمی اللہ کے خوف سے دبا ہوا ہوتا ہے۔ وہ زبان سے زیادہ دل سے بولتا ہے۔ منافق آدمی صرف انسان کو اپنی آواز سنانے کا مشتاق ہوتا ہے، اور مخلص آدمی خدا کو سنانے کا۔

جب ایک شخص ایمان لاتا ہے تو وہ ایک سنجیدہ عہد کرتا ہے۔ اس کے بعد زندگی کے عملی مواقع آتے ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس عہد کے مطابق عمل کرے۔ اب جو شخص ایسے مواقع پر اپنے دل کی آواز کو سن کر عہد کے تقاضے پورے کرے گا۔ اس نے اپنے عہد ایمان کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس، جس کا یہ حال ہو کہ اس کے دل نے آوازدی مگر اس نے دل کی آواز کو نظر انداز کرکے عہد کے خلاف عمل کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دھیرے دھیرے اپنے عہد ایمان کے معاملہ میں بے حس ہوجائے گا— یہی مطلب ہے دل پر مہر کرنےكا۔