Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Bayan ul Quran Tafsir : Al-An'am Ayah 5

6:5
فقد كذبوا بالحق لما جاءهم فسوف ياتيهم انباء ما كانوا به يستهزيون ٥
فَقَدْ كَذَّبُوا۟ بِٱلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ ۖ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنۢبَـٰٓؤُا۟ مَا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ٥
فَقَدۡﱻ
كَذَّبُواْﱼ
بِٱلۡحَقِّﱽ
لَمَّاﱾ
جَآءَهُمۡﱿ
فَسَوۡفَﲀ
يَأۡتِيهِمۡﲁ
أَنۢبَٰٓؤُاْﲂ
مَاﲃ
كَانُواْﲄ
بِهِۦﲅ
يَسۡتَهۡزِءُونَﲆ
٥ﲇ
Ils ont traité de mensonge la vérité quand celle-ci leur est venue. Mais ils vont avoir des nouvelles de ce dont ils se moquaient.
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith

آیت 5 فَقَدْ کَذَّبُوْا بالْحَقِّ لَمَّا جَآءَ ہُمْ ط یہاں فَقَدْ کَذَّبُوْا کا انداز ملاحظہ کیجیے اور یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ یہ مکی دور کے آخری زمانے کی سورتیں ہیں۔ گویا حضور ﷺ کو دعوت دیتے ہوئے تقریباً بارہ برس ہوچکے ہیں۔ چناچہ اب تک بھی جو لوگ ایمان نہیں لائے وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر پورے طور سے جم چکے ہیں۔فَسَوْفَ یَاْتِیْہِمْ اَنْبآؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُ وْنَ مشرکین مکہ مذاق اڑاتے تھے کہ عذاب کی دھمکیاں سنتے سنتے ہمیں بارہ سال ہوگئے ہیں ‘ یہ سن سن کر ہمارے کان پک گئے ہیں کہ عذاب آنے والا ہے ‘ لیکن اب تک کوئی عذاب نہیں آیا۔ لہٰذایہ خالی دھونس ہے ‘ صرف دھمکی ہے۔ اس طرح وہ لوگ اللہ کی آیات کا استہزا کرتے تھے۔ یہاں دو ٹوک انداز میں واضح کیا جا رہا ہے کہ جن چیزوں کا یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے ان کی حقیقت عنقریب ان پر کھلنی شروع ہوجائے گی۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اس گروپ کی پہلی دو مکی سورتیں الانعام اور الاعراف مشرکین عرب پر اتمام حجت کی سورتیں ہیں اور ان کے بعد دو مدنی سورتوں الانفال اور التوبہ میں مشرکین مکہ پر عذاب موعود کا بیان ہے۔ اس لیے کہ ان لوگوں پر عذاب کی پہلی قسط غزوۂ بدر میں آئی تھی۔ چناچہ سورة الانفال میں غزوۂ بدر کے حالات و واقعات پر تبصرہ ہے اور اس عذاب کی آخری صورت کی تفصیل سورة التوبہ میں بیان ہوئی ہے۔ اسی مناسبت سے دو مکی اور دو مدنی سورتوں پر مشتمل یہ ایک گروپ بن گیا ہے۔