Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: Al-An'am 6:148

6:148
سيقول الذين اشركوا لو شاء الله ما اشركنا ولا اباونا ولا حرمنا من شيء كذالك كذب الذين من قبلهم حتى ذاقوا باسنا قل هل عندكم من علم فتخرجوه لنا ان تتبعون الا الظن وان انتم الا تخرصون ١٤٨
سَيَقُولُ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ لَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشْرَكْنَا وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن شَىْءٍۢ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ حَتَّىٰ ذَاقُوا۟ بَأْسَنَا ۗ قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍۢ فَتُخْرِجُوهُ لَنَآ ۖ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَخْرُصُونَ ١٤٨
سَيَقُولُ
ٱلَّذِينَ
أَشۡرَكُواْ
لَوۡ
شَآءَ
ٱللَّهُ
مَآ
أَشۡرَكۡنَا
وَلَآ
ءَابَآؤُنَا
وَلَا
حَرَّمۡنَا
مِن
شَيۡءٖۚ
كَذَٰلِكَ
كَذَّبَ
ٱلَّذِينَ
مِن
قَبۡلِهِمۡ
حَتَّىٰ
ذَاقُواْ
بَأۡسَنَاۗ
قُلۡ
هَلۡ
عِندَكُم
مِّنۡ
عِلۡمٖ
فَتُخۡرِجُوهُ
لَنَآۖ
إِن
تَتَّبِعُونَ
إِلَّا
ٱلظَّنَّ
وَإِنۡ
أَنتُمۡ
إِلَّا
تَخۡرُصُونَ
١٤٨
Ceux qui ont associé diront : "Si Allah avait voulu, nous ne Lui aurions pas donné des associés, nos ancêtres non plus et nous n’aurions rien déclaré interdit." Ainsi leurs prédécesseurs traitaient de menteurs (les Messagers) jusqu’à ce qu’ils eurent goûté Notre rigueur. Dis : "Avez-vous quelque science à nous produire ? Vous ne suivez que la conjecture et ne faites que mentir."
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 6:148 à 6:150
غلط سوچ سے باز رہو ٭٭

مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے بدلنے پر بھی قادر ہے۔ اس طرح کہ ہمارے دل میں ایمان ڈال دے یا کفر کے کاموں کی ہمیں قدرت ہی نہ دے۔

صفحہ نمبر2793

پھر بھی اگر وہ ہماری اس روش کو نہیں بدلتا تو ظاہر ہے کہ وہ ہمارے ان کاموں سے خوش ہے اگر وہ چاہتا تو ہم کیا ہمارے بزرگ بھی شرک نہ کرتے۔ جیسے ان کا یہی قول آیت «وَقَالُوا لَوْ شَاءَ الرَّحْمَـٰنُ مَا عَبَدْنَاهُم مَّا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ» [43-الزخرف:20] ‏ میں اور سورۃ النحل میں ہے۔

اللہ فرماتا ہے «كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ» ” اسی شبہ نے ان سے پہلی قوموں کو تباہ کر دیا “۔ اگر یہ بات سچ ہوتی تو ان کے پہلے باپ دادا پر ہمارے عذاب کیوں آتے؟ رسولوں کی نافرمانی اور شرک و کفر پر مصر رہنے کی وجہ سے وہ روئے زمین سے ذلت کے ساتھ یوں ہٹا دیئے جاتے؟ اچھا تمہارے پاس اللہ کی رضا مندی کا کوئی سرٹیفکیٹ ہو تو پیش کرو۔

ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم وہم پرست ہو فاسد عقائد پر جمے ہوئے ہو اور اٹکل پچو باتیں اللہ کے ذمے گھڑ لیتے ہو۔ وہ بھی یہی کہتے تھے تم بھی یہی کہتے ہو کہ ہم ان معبودوں کی عبادت اسلئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے ملا دیں حالانکہ وہ نہ ملانے والے ہیں نہ اس کی انہیں قدرت ہے، ان سے تو اللہ نے سمجھ بوجھ چھین رکھی ہے، ہدایت و گمراہی کی تقسیم میں بھی اللہ کی حکمت اور اس کی حجت ہے، سب کام اس کے ارادے سے ہو رہے ہیں وہ مومنوں کو پسند فرماتا ہے اور کافروں سے ناخوش ہے۔ فرمان ہے آیت «وَلَوْ شَاءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَي الْهُدٰي فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ» [6-الأنعام:35] ‏ ” اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو راہ حق پر جمع کر دیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا “۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» [10-یونس:99] ‏ ” اگر تیرے رب کی چاہت ہوتی تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دیتا “۔

اور جگہ ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» [11-ھود:118، 119] ‏ ” یہ تو اختلاف سے نہیں ہٹیں گے سوائے ان لوگوں کے جن پر تیرا رب رحم کرے بلکہ انہیں اللہ نے اسی لیے پیدا کیا ہے تیرے رب کی یہ بات حق ہے کہ میں جنات اور انسان سے جہنم کو پر کر دونگا “۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ نافرمانوں کی کوئی حجت اللہ کے ذمہ نہیں بلکہ اللہ کی حجت بندوں پر ہے۔

صفحہ نمبر2794

تم نے خواہ مخواہ اپنی طرف سے جانوروں کو حرام کر رکھا ہے ان کی حرمت پر کسی کی شہادت تو پیش کر دو۔ اگر یہ ایسی شہادت والے لائیں تو تو ان جھوٹے لوگوں کی ہاں میں ہاں نہ ملانا۔ ان منکرین قیامت، منکرین کلام اللہ شریف کے جھانسے میں کہیں تم بھی نہ آ جانا۔

صفحہ نمبر2795