Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: At-Tawbah 9:16

9:16
ام حسبتم ان تتركوا ولما يعلم الله الذين جاهدوا منكم ولم يتخذوا من دون الله ولا رسوله ولا المومنين وليجة والله خبير بما تعملون ١٦
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تُتْرَكُوا۟ وَلَمَّا يَعْلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَـٰهَدُوا۟ مِنكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَا رَسُولِهِۦ وَلَا ٱلْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةًۭ ۚ وَٱللَّهُ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ ١٦
أَمۡ
حَسِبۡتُمۡ
أَن
تُتۡرَكُواْ
وَلَمَّا
يَعۡلَمِ
ٱللَّهُ
ٱلَّذِينَ
جَٰهَدُواْ
مِنكُمۡ
وَلَمۡ
يَتَّخِذُواْ
مِن
دُونِ
ٱللَّهِ
وَلَا
رَسُولِهِۦ
وَلَا
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
وَلِيجَةٗۚ
وَٱللَّهُ
خَبِيرُۢ
بِمَا
تَعۡمَلُونَ
١٦
Pensez-vous que vous serez délaissés, cependant qu’Allah n’a pas encore distingué ceux d’entre vous qui ont lutté et qui n’ont pas cherché des alliés en dehors d’Allah, de Son Messager et des croyants ? Et Allah est Parfaitement Informé de ce que vous faites.
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 9:14 à 9:16
مسلمان بھی آزمائیں جائیں گے ٭٭

یہ نا ممکن ہے کہ امتحان بغیر مسلمان بھی چھوڑ دیئے جائیں سچے اور جھوٹے مسلمان کو ظاہر کر دینا ضروری ہے۔ «وَلِيجَةً» کے معنی بھیدی اور دخل دینے والے کے ہیں۔ پس سچے وہ ہیں جو جہاد میں آگے بڑھ کر حصہ لیں اور ظاہر باطن میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیر خواہی اور حمایت کریں۔

ایک قسم کا بیان دوسری قسم کو ظاہر کر دیتا تھا اس لیے دوسری قسم کے لوگوں پر بیان چھوڑ دیا ایسی عبارتیں شاعروں کے شعروں میں بھی ہیں۔ اور جگہ قرآن کریم ہے کہ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ صرف یہ کہنے سے چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش ہو گی ہی نہیں حالانکہ اگلے مومنوں کی بھی ہم نے آزمائش کی یاد رکھو اللہ تعالیٰ سچے اور جھوٹوں کو ضرور الگ کر دے گا۔ [29-العنكبوت:3،2] ‏

اور آیت میں اسی مضمون کو «أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ» [3-آل عمران:142] ‏ کے لفظوں سے بیان فرمایا ہے۔

اور آیت میں ہے «مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ» [3-آل عمران:179] ‏ اللہ ایسا نہیں کہ تم مومنوں کو تمہاری حالت پر ہی چھوڑ دے اور امتحان کر کے یہ نہ معلوم کر لے کہ خبیث کون ہے اور طیب کون ہے؟

پس جہاد کے مشروع کرنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ کھرے کھوٹے کی تمیز ہو جاتی ہے۔ گو اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے جو ہو گا وہ بھی اسے معلوم ہے اور جو نہیں ہوا وہ جب ہو گا تب کس طرح ہو گا یہ بھی وہ جانتا ہے چیز کے ہونے سے پہلے ہی اسے اس کا علم حاصل ہے اور ہر چیز کی ہر حالت سے وہ واقف ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ دنیا پر بھی کھرا کھوٹا، سچا جھوٹا ظاہر کر دے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اس کے سوا کوئی پروردگار ہے نہ اس کی قضاء و قدر اور ارادے کو کوئی بدل سکتا ہے۔

صفحہ نمبر3409