Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: Al-Hajj 22:55

22:55
ولا يزال الذين كفروا في مرية منه حتى تاتيهم الساعة بغتة او ياتيهم عذاب يوم عقيم ٥٥
وَلَا يَزَالُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى مِرْيَةٍۢ مِّنْهُ حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةً أَوْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيمٍ ٥٥
وَلَا
يَزَالُ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
فِي
مِرۡيَةٖ
مِّنۡهُ
حَتَّىٰ
تَأۡتِيَهُمُ
ٱلسَّاعَةُ
بَغۡتَةً
أَوۡ
يَأۡتِيَهُمۡ
عَذَابُ
يَوۡمٍ
عَقِيمٍ
٥٥
Et ceux qui mécroient ne cesseront d’être en doute à son sujet, jusqu’à ce que l’Heure les surprenne à l’improviste ou que les atteigne le châtiment d’un jour terrifiant.
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 22:55 à 22:57
کافروں کے دل سے شک و شبہ نہیں جائے گا ٭٭

یعنی کافروں کو جو شک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آ جائیں گے۔ اس وقت یہ محض بے شعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغرور ہو گئے۔

جس قوم کے پاس اللہ کے عذاب آئے اسی حالت میں آئے کہ وہ ان سے نڈر بلکہ بےپروا ہو گئے تھے اللہ کے عذابوں سے غافل وہی ہوتے ہیں جو پورے فاسق اور اعلانیہ مجرم ہوں۔ یا انہیں بے خبر دن عذاب پہنچے جو دن ان کے لیے منحوس ثابت ہو گا۔ بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے اور بعض نے کہا ہے مراد اس سے قیامت کا دن ہے یہی قول صحیح ہے گو بدر کا دن بھی ان کے لیے عذاب اللہ کا دن تھا۔ اس دن صرف اللہ کی بادشاہت ہوگی۔ جیسے اور آیت میں ہے «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» [1-الفاتحہ:4] ‏ ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے “۔ اور آیت میں ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا» [25-الفرقان:26] ‏ ” اس دن رحمن کا ہی ملک ہو گا اور وہ دن کافروں پر نہایت ہی گراں گزرے گا “۔ فیصلے خود اللہ کرے گا۔ جن کے دلوں میں اللہ پر ایمان رسول کی صداقت اور ایمان کے مطابق جن کے اعمال تھے جن کے دل اور عمل میں موافقت تھی۔ جن کی زبانیں دل کے مانند تھیں وہ جنت کی نعمتوں میں مالا مال ہوں گے جو نعمتیں نہ فنا ہوں نہ گھٹیں نہ بگڑیں نہ کم ہوں۔ جن کے دلوں میں حقانیت سے کفر تھا، جو حق کو جھٹلاتے تھے، نبیوں کے خلاف کرتے تھے، اتباع حق سے تکبر کرتے تھے ان کے تکبر کے بدلے انہیں ذلیل کرنے والے عذاب ہوں گے۔

جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» [40-غافر:60] ‏ ” جو لوگ میری عبادتوں سے سرکشی کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے “۔

صفحہ نمبر5648