Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: Al-Baqarah 2:82

2:82
والذين امنوا وعملوا الصالحات اولايك اصحاب الجنة هم فيها خالدون ٨٢
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ ٨٢
وَٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَعَمِلُواْ
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
أُوْلَٰٓئِكَ
أَصۡحَٰبُ
ٱلۡجَنَّةِۖ
هُمۡ
فِيهَا
خَٰلِدُونَ
٨٢
Et ceux qui croient et pratiquent les bonnes œuvres, ceux-là sont les gens du Paradis où ils demeureront éternellement. 1
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 2:78 à 2:82

آرزوؤں (امانی) سے مراد وہ جھوٹے قصے کہانیاں ہیں جوخدائی کتاب کی حامل زوال یافتہ قوموں نے اپنے دین کے بارے میں گھڑ رکھی تھیں اور جو اپنی ظاہرفریبی کی وجہ سے عوام میں خوب پھیل گئی تھیں (أَكَاذِيبَ مُخْتَلِفَةً سَمِعُوهَا مِنْ عُلَمَائِهِمْ فَنَقَلُوهَا عَلَى التَّقْلِيدِ، قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٌ، وَاخْتَارَهُ الْفَرَّاءُ ) البحر المحیط، جلد1، صفحہ 445 ۔ ان قصے کہانیوں کا خلاصہ یہ تھا کہ جہنم کی آگ یہود کے لیے نہیں ہے۔ ان میں اپنے بزرگوں سے منسوب کرکے ایسی باتیں ملائی گئی تھیں جن سے یہ ثابت ہو کہ(وہ)اللہ کے خاص بندے ہیں ۔ وہ جس دین کو مانتے ہیں اس میں ایسے طلسماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں کہ اس کی معمولی معمولی چیزیں بھی آدمی کو جہنم کی آگ سے بچانے اور جنت کے باغوں میں پہنچادینے کے لیے کافی ہیں ۔

سستی نجات کے یہ مقدس نسخے عوام کے لیے بہت کشش رکھتے تھے۔ کیوں کہ اس میں ان کو اپنی اس خوش خیالی کی تصدیق مل رہی تھی کہ ان کو اپنی غیر ذمہ دارانہ زندگی پر روک لگانے کی ضرورت نہیں ۔ وہ کسی جدوجہد کے بغیر محض ٹونے ٹوٹکے کی برکت سے جنت میں پہنچ جائیں گے۔ چنانچہ جو دینی واعظین قدیم بزرگوں کے حوالے سے یہ خوش کن کہانیاں سناتے تھے ان کو لوگوں کے درمیان زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ آخرت کے معاملے کو آسان بنانا ان کے لیے شان دار دنیوی تجارت کا ذریعہ بن گیا۔ ان کے گرد عوام کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ ان کے اوپر نذرانوں کی بارش ہونے لگی۔ وہ لوگوں کو مفت جنت حاصل کرنے کا راستہ بتاتے تھے، لوگوں نے اس کے بدلے ان کے لیے اپنی طرف سے مفت دنیا فراہم کردی۔

یہی ہر دور میں حامل کتاب قوموں کا مرض رہا ہے۔ جولوگ اس قسم کے لذیذ خوابوں میں جی رہے ہوں، جو یہ سمجھ بیٹھے ہوں کہ چند رسمی اعمال کے سوا ان پر کسی ذمہ داری کا بوجھ نہیں ہے۔ جو اس خوش گمانی میں مبتلا ہوںکہ ان کے سارے حقوق خدا کے یہاں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوچکے ہیں، ایسے لوگ سچے دین کی دعوت کو کبھی گوارا نہیں کرتے۔ کیوں کہ ایسی باتیں ان کو اپنی میٹھی نیند کو خراب کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، وہ ان کو زندگی کی برہنہ حقیقتوں کے سامنے کھڑا کر دیتی ہیں۔