Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: Yusuf 12:76

12:76
فبدا باوعيتهم قبل وعاء اخيه ثم استخرجها من وعاء اخيه كذالك كدنا ليوسف ما كان لياخذ اخاه في دين الملك الا ان يشاء الله نرفع درجات من نشاء وفوق كل ذي علم عليم ٧٦
فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَـٰتٍۢ مَّن نَّشَآءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌۭ ٧٦
فَبَدَأَ
بِأَوۡعِيَتِهِمۡ
قَبۡلَ
وِعَآءِ
أَخِيهِ
ثُمَّ
ٱسۡتَخۡرَجَهَا
مِن
وِعَآءِ
أَخِيهِۚ
كَذَٰلِكَ
كِدۡنَا
لِيُوسُفَۖ
مَا
كَانَ
لِيَأۡخُذَ
أَخَاهُ
فِي
دِينِ
ٱلۡمَلِكِ
إِلَّآ
أَن
يَشَآءَ
ٱللَّهُۚ
نَرۡفَعُ
دَرَجَٰتٖ
مَّن
نَّشَآءُۗ
وَفَوۡقَ
كُلِّ
ذِي
عِلۡمٍ
عَلِيمٞ
٧٦
[Joseph] commença par les sacs des autres avant celui de son frère; puis il la fit sortir du sac de son frère. Ainsi suggérâmes-Nous cet artifice à Joseph. Car il ne pouvait pas se saisir de son frère, selon la justice du roi, à moins qu’Allah ne l’eût voulu. Nous élevons en rang qui Nous voulons. Et au-dessus de tout homme détenant la science il y a un savant [plus docte que lui]. 1
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
باب

چنانچہ پہلے بھائیوں کے اسباب کی تلاشی لی، حالانکہ معلوم تھا کہ ان کی خورجیاں خالی ہیں لیکن صرف اس لیے کہ انہیں اور دوسرے لوگوں کو کوئی شبہ نہ آپ نے یہ کام کیا۔ جب بھائیوں کی تلاشی ہو چکی اور جام نہ ملا تو اب بنیامین کے اسباب کی تلاشی شروع ہوئی چونکہ ان کے اسباب میں رکھوایا تھا اس لیے اس میں سے نکلنا ہی تھا، نکلتے ہی حکم دیا کہ انہیں روک لیا جائے۔ یہ تھی وہ ترکیب جو جناب باری نے اپنی حکمت اور یوسف کی اور بنیامین وغیرہ کی مصلحت کے لیے یوسف صدیق علیہ السلام کو سکھائی تھی۔ کیونکہ شاہ مصر کے قانون کے مطابق تو باوجود چور ہونے کے بنیامین کو یوسف علیہ السلام اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے لیکن چونکہ بھائی خود یہی فیصلہ کر چکے تھے، اس لیے یہی فیصلہ یوسف علیہ السلام نے جاری کر دیا۔ آپ کو معلوم تھا کہ شرع ابراہیمی کا فیصلہ چور کی بابت کیا ہے۔ اس لیے بھائیوں سے پہلے ہی منوا لیا تھا۔ جس کے درجے اللہ بڑھانا چاہے، بڑھا دیتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَرْفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ» [ 58-المجادلة: 11 ] ‏ تم میں سے ایمانداروں کے درجے ہم بلند کریں گے۔ ہر عالم سے بالا کوئی اور عالم بھی ہے یہاں تک کہ اللہ سب سے بڑا عالم ہے۔ اسی سے علم کی ابتداء ہے اور اسی کی طرف علم کی انتہا ہے عبداللہ رضی اللہ عنہما کی قرأت میں «فَوْقَ کُلِّ عَالِـمٍ عَـلِـیْمٌ» ہے۔

صفحہ نمبر4051