Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: Yunus 10:46

10:46
واما نرينك بعض الذي نعدهم او نتوفينك فالينا مرجعهم ثم الله شهيد على ما يفعلون ٤٦
وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِى نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ ٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ ٤٦
وَإِمَّا
نُرِيَنَّكَ
بَعۡضَ
ٱلَّذِي
نَعِدُهُمۡ
أَوۡ
نَتَوَفَّيَنَّكَ
فَإِلَيۡنَا
مَرۡجِعُهُمۡ
ثُمَّ
ٱللَّهُ
شَهِيدٌ
عَلَىٰ
مَا
يَفۡعَلُونَ
٤٦
Que Nous te fassions voir une partie de ce dont Nous les menaçons, ou que Nous te fassions mourir , (en tout cas), c’est vers Nous que sera leur retour. Allah est en outre, témoin de ce qu’ils font. 1
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 10:46 à 10:47
اللہ تعالی مقتدر اعلی ہے ٭٭

فرمان ہے کہ ” اگر تیری زندگی میں ہم ان کفار پر کوئی عذاب اتاریں یا تجھے ان عذابوں کے اتارنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلا لیں، بہر صورت ہے تو یہ سب ہمارے قبضے میں ہی اور ٹھکانا ان کا ہمارے ہاں ہی ہے، اور ہم پر ان کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں “۔

طبرانی کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ رات اسی حجرے کے پاس میرے سامنے میری ساری امت پیش کی گئی کسی نے پوچھا کہ اچھا موجود لوگ تو خیر لیکن جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے وہ کیسے پیش کئے گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی مٹی کے جسم پیش کئے گئے جیسے تم اپنے کسی ساتھی کو پہچانتے ہو ایسے ہی میں نے انہیں پہچان لیا ۔ [طبرانی کبیر3055:ضعیف ] ‏

ہر امت کے رسول ہیں۔ جب کسی کے پاس رسول پہنچ گیا پھر حجت پوری ہوگئی۔ اب قیامت کے دن ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ بغیر کسی ظلم کے حساب چکا دیا جائے گا۔ جیسے «وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» [39-الزمر:69] ‏ والی آیت میں ہے۔ ہر امت اللہ کے سامنے ہو گی، رسول موجود ہو گا، نامہ اعمال ساتھ ہو گا، گواہ فرشتے حاضر ہوں گے، ایک کے بعد دوسری امت آئے گی اس شریف امت کا فیصلہ سب سے پہلے ہو گا۔ گو دنیا میں یہ سب سے آخر میں آئی ہے۔

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ ہماری فیصلے سب سے اول ہوں گے [صحیح بخاری:6624] ‏۔

اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و شرف کی وجہ سے یہ امت بھی اللہ کے ہاں شریف و افضل ہے۔

صفحہ نمبر3708