Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: Al-Hijr 15:85

15:85
وما خلقنا السماوات والارض وما بينهما الا بالحق وان الساعة لاتية فاصفح الصفح الجميل ٨٥
وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۗ وَإِنَّ ٱلسَّاعَةَ لَـَٔاتِيَةٌۭ ۖ فَٱصْفَحِ ٱلصَّفْحَ ٱلْجَمِيلَ ٨٥
وَمَا
خَلَقۡنَا
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضَ
وَمَا
بَيۡنَهُمَآ
إِلَّا
بِٱلۡحَقِّۗ
وَإِنَّ
ٱلسَّاعَةَ
لَأٓتِيَةٞۖ
فَٱصۡفَحِ
ٱلصَّفۡحَ
ٱلۡجَمِيلَ
٨٥
Et Nous n’avons créé les cieux et la Terre, et ce qui est entre eux, que pour une juste raison. Et l’Heure [sans aucun doute] arrivera ! Pardonne-[leur] donc d’un beau pardon.
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 15:85 à 15:86
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیاں ٭٭

اللہ نے تمام مخلوق عدل کے ساتھ بنائی ہے، قیامت آنے والی ہے، «لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» [53-النجم:31] ‏ ” بروں کو برے بدلے نیکوں کو نیک بدلے ملنے والے ہیں “۔

«وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» [38-ص:27] ‏ ” مخلوق باطل سے پیدا نہیں کی گئی۔ ایسا گمان کافروں کا ہوتا ہے اور کافروں کے لیے ویل دوزخ ہے “۔

اور آیت میں ہے «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» [23-المؤمنون:115،116] ‏ ” کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟ بلندی والا ہے اللہ مالک حق جس کے سوا کوئی قابل پرستش نہیں عرش کریم کا مالک وہی ہے “۔

پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” مشرکوں سے چشم پوشی کیجئے، ان کی ایذأ اور جھٹلانا اور برا کہنا برداشت کر لیجئے “۔

جیسے اور آیت میں ہے «فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [43-الزخرف:89] ‏ ” ان سے چشم پوشی کیجئے اور سلام کہہ دیجئیے انہیں ابھی معلوم ہو جائے گا “۔

یہ حکم جہاد کے حکم سے پہلے تھا یہ آیت مکیہ ہے اور جہاد بعد از ہجرت مقرر اور شروع ہوا ہے۔ ” تیرا رب خالق ہے اور خالق مار ڈالنے کے بعد بھی پیدائش پر قادر ہے، اسے کسی چیز کی باربار کی پیدائش عاجز نہیں کرسکتی۔ ریزوں کو جب بکھر جائیں وہ جمع کر کے جان ڈال سکتا ہے “۔

جیسے فرمان ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» [36-يس:81-83] ‏، ” آسمان و زمین کا خالق کیا ان جیسوں کی پیدائش کی قدرت نہیں رکھتا؟ بیشک وہ پیدا کرنے والا علم والا ہے وہ جب کسی بات کا ارادہ کرتا ہے تو اسے ہو جانے کو فرما دیتا ہے بس وہ ہو جاتی ہے۔ پاک ذات ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی ملکیت ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے “۔

صفحہ نمبر4374