Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: Al-A'raf 7:146

7:146
ساصرف عن اياتي الذين يتكبرون في الارض بغير الحق وان يروا كل اية لا يومنوا بها وان يروا سبيل الرشد لا يتخذوه سبيلا وان يروا سبيل الغي يتخذوه سبيلا ذالك بانهم كذبوا باياتنا وكانوا عنها غافلين ١٤٦
سَأَصْرِفُ عَنْ ءَايَـٰتِىَ ٱلَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَإِن يَرَوْا۟ كُلَّ ءَايَةٍۢ لَّا يُؤْمِنُوا۟ بِهَا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلْغَىِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَـٰفِلِينَ ١٤٦
سَأَصۡرِفُ
عَنۡ
ءَايَٰتِيَ
ٱلَّذِينَ
يَتَكَبَّرُونَ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
بِغَيۡرِ
ٱلۡحَقِّ
وَإِن
يَرَوۡاْ
كُلَّ
ءَايَةٖ
لَّا
يُؤۡمِنُواْ
بِهَا
وَإِن
يَرَوۡاْ
سَبِيلَ
ٱلرُّشۡدِ
لَا
يَتَّخِذُوهُ
سَبِيلٗا
وَإِن
يَرَوۡاْ
سَبِيلَ
ٱلۡغَيِّ
يَتَّخِذُوهُ
سَبِيلٗاۚ
ذَٰلِكَ
بِأَنَّهُمۡ
كَذَّبُواْ
بِـَٔايَٰتِنَا
وَكَانُواْ
عَنۡهَا
غَٰفِلِينَ
١٤٦
Je détournerai de Mes signes ceux qui, sans raison, s’enflent d’orgueil sur Terre. Et même s’ils voyaient tous les miracles, ils n’y croiraient pas. Et s’ils voient le bon sentier, ils ne le prennent pas comme sentier. Mais s’ils voient le sentier de l’erreur, ils le prennent comme sentier. C’est qu’en vérité ils ont traité de mensonges Nos signes et ils ne leur accordaient aucune attention.
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith
Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 7:146 à 7:147
تکبر کا پھل محرومی ٭٭

تکبر کا نتیجہ ہمیشہ جہالت ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو حق سمجھنے، اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ان کے دل الٹ جاتے ہیں، آنکھ کان بےکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی کجی ان کے دلوں کو بھی کج کر دیتی ہے۔

علماء کا مقولہ ہے کہ متکبر اور پوچھنے سے جی چرانے والا کبھی عالم نہیں ہو سکتا۔ جو شخص تھوڑی دیر کے لیے علم کے حاصل کرنے میں اپنے آپ کو دوسرے کے سامنے نہ جھکائے، وہ عمر بھر ذلت و رسوائی میں رہتا ہے۔ متکبر لوگوں کو قرآن کی سمجھ کہاں؟ وہ تو رب کی آیتوں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ اس امت کے لوگ ہوں یا دوسری امتوں کے، سب کے ساتھ اللہ کا طریقہ یہی رہا ہے کہ تکبر کی وجہ سے حق کی پیروی نصیب نہیں ہوتی۔ چونکہ یہ لوگ اللہ کے عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔ اگرچہ یہ بڑے بڑے معجزے بھی دیکھ لیں، انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ گو نجات کے راستے ان پر کھل جائیں لیکن اس راہ پر چلنا ان کے لیے دشوار ہے۔ ہاں بری راہ سامنے آتے ہی یہ بےطرح اس پر لپکتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے دلوں میں جھٹلانا ہے اور اپنے اعمال کے نتیجوں سے بےخبر ہیں۔ جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، آخرت کا یقین نہ رکھیں، اسی عقیدے پر مریں، ان کے اعمال اکارت ہیں۔ ہم کسی پر ظلم نہیں کرتے، بدلہ صرف کئے ہوئے اعمال کا ہی ملتا ہے۔ بھلے کا بھلا اور برے کا برا، جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے۔

صفحہ نمبر3066