Se connecter
Se connecter
Se connecter
Sélectionner la langue

Tafsir: Sad 38:26

38:26
يا داوود انا جعلناك خليفة في الارض فاحكم بين الناس بالحق ولا تتبع الهوى فيضلك عن سبيل الله ان الذين يضلون عن سبيل الله لهم عذاب شديد بما نسوا يوم الحساب ٢٦
يَـٰدَاوُۥدُ إِنَّا جَعَلْنَـٰكَ خَلِيفَةًۭ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱحْكُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ بِٱلْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ ٱلْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌۭ شَدِيدٌۢ بِمَا نَسُوا۟ يَوْمَ ٱلْحِسَابِ ٢٦
يَٰدَاوُۥدُ
إِنَّا
جَعَلۡنَٰكَ
خَلِيفَةٗ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
فَٱحۡكُم
بَيۡنَ
ٱلنَّاسِ
بِٱلۡحَقِّ
وَلَا
تَتَّبِعِ
ٱلۡهَوَىٰ
فَيُضِلَّكَ
عَن
سَبِيلِ
ٱللَّهِۚ
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
يَضِلُّونَ
عَن
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
لَهُمۡ
عَذَابٞ
شَدِيدُۢ
بِمَا
نَسُواْ
يَوۡمَ
ٱلۡحِسَابِ
٢٦
"Ô David, Nous avons fait de toi un calife sur la terre. Juge donc en toute équité parmi les gens et ne suis pas la passion : sinon elle t’égarera du sentier d’Allah." Car ceux qui s’égarent du sentier d’Allah auront un dur chiâtiment pour avoir oublié le Jour des Comptes. 1
Tafsirs
Niveaux
Leçons
Réflexions
Réponses
Qiraat
Hadith

اس قصے پر جو تبصرہ آیا ہے ، وہ صاف صاف بتاتا ہے کہ حضرت داؤد کی آزمائش کی نوعیت کیا تھی۔ اللہ نے حضرت داؤد کو حکومت دی تھی تاکہ وہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلے کریں ، اس لیے متعین ہوگیا کہ اس آزمائش و امتحان کا تعلق

جو ڈیشل پر وسیڈنگز سے تھا۔ چناچہ کہا گیا :

آیت نمبر 26

حضرت داؤد (علیہ السلام) کو یہ کہا گیا کہ آپ کو زمین کا اقتدار اعلیٰ دیا گیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان حق پر مبنی فیصلے کریں اور ان فیصلوں میں اپنی ذاتی چاہت کا خیال نہ رکھیں ۔ جہاں تک نبی کا تعلق ہے وہ تو خواہشات نفس کی پیروی سے محفوظ ہوتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ ابتدائی میلان پر ہی فیصلہ نہ کردیا کریں۔ یہ نہ ہو کہ بغیر سوچے سمجھے اور بغیر تحقیقات کیے ہی فیصلہ نہ کردیا کریں۔ کیونکہ اس طرح جلدی میں بغیر تحقیق کے فیصلے غلط ہوتے ہیں۔ آیت کے آخر میں حکم عام ہے۔ ان تمام لوگوں کیلیے جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوتے ہیں۔ جو اللہ کو بھول جاتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قیامت کے دن شدید عذاب سے دوچار ہوں گے۔

خلافت ارضی میں سچائی پر چلنے کے اصول کے طے ہونے کے بعد اور لوگوں کے درمیان سچائی اور حق پر مبنی فیصلے کے احکام کے بعد اور قصہ داؤد (علیہ السلام) کے ختم ہونے سے پہلے اس سچائی کو اس عالم گیر سچائی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے جس کے اوپر زمین و آسمان قائم ہیں اور آسمان اور زمینوں کے درمیان پوری کائنات قائم ہے۔ یہ سچائی اس کائنات کے اندر بہت گہری ہے اور صرف خلاف فی الارض کی سچائی اور لوگوں کے درمیان عدل کی سچائی سے بہت عام ہے۔ یہ سچائی اس زمین سے بھی وسیع تر ہے جبکہ یہ صرف اس دنیا کی زندگی سے بھی آگے عالم آخرت تک پھیلی ہوئی ہے ۔ جس طرح یہ کائنات اس کی لپیٹ میں ہے اسی طرح عالم آخرت بھی اس کی لپیٹ میں ہے ۔ اس عالم گیر سچائی پر یہ آخری رسالت مبنی ہے اور اللہ کی یہ آخری کتاب اسی ہمہ گیر اور والم گیر سچائی کی مظہر اور مفسر ہے۔